کریپٹو مارکیٹ میں گراوٹ، مصنوعی ذہانت کے خوف سے آئی بی ایم کے حصص میں 11 فیصد کمی

زبان کا انتخاب

مصنوعی ذہانت کی کمپنی انتھروپک نے اعلان کیا ہے کہ اس کا کلاؤڈ پلیٹ فارم کوبول (COBOL) زبان میں لکھی گئی کوڈ کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کہ آئی بی ایم کی ایک اہم آمدنی کا ذریعہ ہے۔ کوبول ایک پرانی مگر اہم پروگرامنگ زبان ہے جو بڑے مالیاتی اداروں اور کمپنیوں کے سسٹمز میں استعمال ہوتی ہے، اور آئی بی ایم اس زبان پر مبنی سافٹ ویئر کی دیکھ بھال اور اپ گریڈ میں خاص مہارت رکھتا ہے۔
اس اعلان کے بعد آئی بی ایم کے حصص میں تقریباً 11 فیصد کی شدید کمی دیکھنے میں آئی، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت کی ترقیات کے باعث پرانی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے یہ تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ جدید اے آئی پلیٹ فارمز پرانے سسٹمز کی جگہ لے سکتے ہیں، جس سے آئی بی ایم جیسے اداروں کی مالی حالت متاثر ہو سکتی ہے۔
کریپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں بھی اس خوف کا اثر پڑا ہے اور اس دوران گہری گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ مارکیٹ میں عمومی عدم استحکام کے باعث سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں، خصوصاً ان شعبوں میں جہاں ٹیکنالوجی کی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔
آئی بی ایم ایک عالمی سطح پر معروف ٹیکنالوجی کمپنی ہے جو مختلف سافٹ ویئر اور ہارڈویئر سروسز فراہم کرتی ہے۔ اس کی بڑی آمدنی کا ایک حصہ کوبول کوڈ کی دیکھ بھال اور اس میں بہتری سے حاصل ہوتا ہے، جو بڑے اداروں کے پرانے کمپیوٹر سسٹمز میں استعمال ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی نئی ٹیکنالوجیز کا اس شعبے میں داخلہ آئی بی ایم کے کاروباری ماڈل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
مستقبل میں، اگر مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز پرانے کوڈ کو خودکار طریقے سے بہتر بنانے اور چلانے کی صلاحیت مزید بڑھتی ہے تو یہ روایتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، سرمایہ کاروں کو ٹیکنالوجی سیکٹر میں ہونے والی تیزی سے تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سرمایہ کاری کے فیصلے کرنے کی ضرورت ہو گی۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے