ٹرمپ سے منسلک اسٹیبل کوائن میں اتار چڑھاؤ، WLFI نے ’منظم حملے‘ کا دعویٰ کر دیا

زبان کا انتخاب

ٹرمپ سے منسلک ایک امریکی ڈالر پر مبنی اسٹیبل کوائن کی قیمت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی قیمت عارضی طور پر ایک ڈالر کے پیگ سے نیچے گر کر تقریباً 0.994 ڈالر تک پہنچ گئی، جو کہ اس کے مقررہ پیگ سے تقریباً 0.6 فیصد کم ہے۔ کوائن گییکو کے اعداد و شمار کے مطابق یہ کمی وقتی تھی لیکن اس نے مارکیٹ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اسٹیبل کوائنز عام طور پر کرپٹو مارکیٹ میں استحکام فراہم کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں کیونکہ ان کی قیمت کو کسی مستحکم اثاثے جیسے کہ امریکی ڈالر سے منسلک کیا جاتا ہے تاکہ قیمت میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہ ہو۔
اسٹیک ہولڈرز اور مارکیٹ ماہرین نے اس غیر متوقع کمی کو ایک ’منظم حملے‘ کے طور پر دیکھا ہے، جس کا دعویٰ امریکی اسٹیبل کوائن WLFI کی جانب سے کیا گیا ہے۔ WLFI نے اپنی سیکیورٹی اور استحکام کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے سسٹمز پر کسی قسم کا ہیکنگ یا مالی حملہ کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے قیمت میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔
اسٹیل کوائنز کا بنیادی مقصد کرپٹو کرنسی کی دنیا میں قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو کسی بھی مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔ تاہم، جب ان کی قیمت مقررہ پیگ سے ہٹتی ہے تو مارکیٹ میں عدم اعتماد پیدا ہو سکتا ہے جو کہ مجموعی کرپٹو مارکیسی کی صورتحال کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس قسم کے واقعات مارکیٹ کی ناپائیداری کو بڑھا سکتے ہیں اور سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کا پیغام دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملے اسٹیبل کوائن کے نظام کی سالمیت پر سوالیہ نشان لگا سکتے ہیں اور اس کا اثر دیگر کرپٹو اثاثوں کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ مستقبل میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے متعلقہ حکام اور کمپنیوں کو فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ مارکیٹ میں اعتماد بحال کیا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے