برازیل کے صدر کا برِکس ممالک سے اپنی کرنسیوں میں تجارت کی اپیل

زبان کا انتخاب

برازیل کے صدر لوئز لولا دا سلوا نے برِکس ممالک کو امریکی ڈالر کی بجائے اپنی قومی کرنسیوں میں تجارت کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مالی وزرائے اور مرکزی بینکوں کو چاہیے کہ وہ ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے عملی حل نکالیں تاکہ چھوٹے ممالک پر مالی پابندیاں کم ہوں۔ اس اقدام کا مقصد عالمی مالیاتی نظام میں امریکی ڈالر کے تسلط کو کم کرنا اور برِکس ممالک کے درمیان مالی خودمختاری کو فروغ دینا ہے۔
برِکس گروپ میں برازیل، روس، ہندوستان، چین، اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، جو دنیا کی ابھرتی ہوئی بڑی معیشتیں ہیں۔ یہ ممالک حالیہ برسوں میں امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے اور اپنی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عالمی مالیاتی نظام میں توازن قائم ہو سکے۔ اس حوالے سے لوئز لولا دا سلوا کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اگلے برِکس اجلاس میں بھارت میں زیر بحث آئے گا، جہاں ممبر ممالک اس موضوع پر مزید جامع حکمت عملی تیار کریں گے۔
امریکی حکومت کی جانب سے ڈالر کے عالمی استعمال کو برقرار رکھنے کی کوششیں اس منصوبے کے سامنے ایک بڑی رکاوٹ ہو سکتی ہیں، کیونکہ امریکی ڈالر عالمی تجارت اور مالیات میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، برِکس ممالک کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت اور عالمی مالیاتی نظام میں اس کا اثر و رسوخ اس تبدیلی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
اس پیش رفت سے عالمی مالیاتی نظام میں ممکنہ تبدیلیوں کا امکان ہے، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو مالی پابندیوں سے نجات مل سکتی ہے اور ان کی معیشتوں کو نئی راہیں مل سکتی ہیں۔ تاہم، اس راستے میں سیاسی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا بھی متوقع ہے جو عالمی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے