بینک آف جاپان کے سابق رکن کا ین کی قدر میں کمی کے پیش نظر شرح سود میں اضافے کا اشارہ

زبان کا انتخاب

بینک آف جاپان (BOJ) کے سابق رکن ماکوتو سکورائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ین کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری رہا تو BOJ مارچ میں شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔ یہ اشارہ خاص طور پر اس وقت سامنے آیا ہے جب جاپان اور امریکہ کے درمیان متوقع سربراہی اجلاس مارچ میں ہونے والا ہے۔ سکورائی نے کہا ہے کہ کرنسی میں مداخلت سے ین کی فروخت کے دباؤ کو عارضی طور پر کم کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کا مستقل حل شرح سود میں اضافے میں مضمر ہے۔
ین کی قدر میں کمی جاپان کی معیشت کے لیے تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس سے درآمدی سامان کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جو مہنگائی میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اس کے علاوہ، حکومت کے ایندھن کے سبسڈی پروگراموں کے اثرات کمزور پڑ سکتے ہیں۔ سکورائی نے یہ بھی کہا کہ اگر ین کی کمی نمایاں رہی تو BOJ مارچ میں شرح سود میں اضافے کی جواز پیش کر سکتا ہے، خاص طور پر جب جاپانی کمپنیوں اور یونینز کے درمیان سالانہ بہار میں اجرتوں پر مذاکرات متوقع ہیں، جن سے اجرتوں میں مضبوط اضافہ ہو سکتا ہے۔
بینک آف جاپان نے گزشتہ کئی سالوں سے کم شرح سود کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے تاکہ معیشت کو فروغ دیا جا سکے اور مہنگائی کو اپنے ہدف کے قریب لایا جا سکے۔ تاہم، ین کی مسلسل گرتی ہوئی قدر اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے BOJ کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ شرح سود میں ممکنہ اضافہ ین کو مستحکم کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ معیشت پر منفی اثرات کے امکانات بھی موجود ہیں، جیسے قرضوں کی لاگت میں اضافہ اور سرمایہ کاری میں کمی۔
یہ پیش رفت نہ صرف جاپان کی معیشت بلکہ عالمی مالیاتی بازاروں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ ین ایک اہم عالمی کرنسی ہے۔ سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مستقبل میں ممکنہ مالیاتی تبدیلیوں کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دے سکیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے