اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اگلے ماہ 25 تاریخ کو اسرائیل کا دورہ کریں گے۔ نیتن یاہو نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ مودی اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے اور انہیں یقین ہے کہ پارلیمنٹ کے اراکین اس خطاب میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی ترقی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی کے دورے کے دوران اقتصادی، سفارتی اور سیکورٹی شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات موجود ہیں۔
یہ دورہ بھارتی وزیر اعظم مودی کے اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد اسرائیل کا دوسرا اہم دورہ ہوگا۔ مودی نے پہلے 2017 میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد نیتن یاہو نے اگلے سال بھارت کا دورہ کیا تھا۔ ان دوروں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دی اور خطے میں باہمی تعاون کو فروغ دیا۔
بھارت اور اسرائیل کے تعلقات گزشتہ دہائی میں خاصے مضبوط ہوئے ہیں، جس میں دفاع، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت اور انوکھے اقتصادی شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بنیاد 1992 میں رکھی گئی تھی لیکن حالیہ برسوں میں تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ مودی کے حالیہ دورے سے توقع کی جا رہی ہے کہ دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا اور علاقائی سلامتی کے مسائل پر مشترکہ حکمت عملی کو فروغ ملے گا۔
عالمی سطح پر، بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کی مضبوطی خطے کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ دونوں ممالک کی حکومتیں اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم، خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگیوں کے تناظر میں یہ تعلقات بعض چیلنجز کا بھی سامنا کر سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance