ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک کے استحکام کو ممکنہ جنگ اور قاتلانہ حملوں کے خطرات کے پیش نظر مضبوط بنانے کی ذمہ داری علی لاریجانی کو سونپ دی ہے، جو کہ قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام میں شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ایران کے سیاسی اور عسکری ڈھانچے کو ایسے بحرانوں کے دوران بھی مستحکم رکھنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، خامنہ ای نے متعدد ہدایات جاری کی ہیں جو ان کے ذاتی تقرری کردہ عسکری اور حکومتی عہدوں کے لیے چار سطحی جانشینی منصوبے پر مشتمل ہیں۔
یہ منصوبہ بندی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے کہ اگر سپریم لیڈر یا دیگر اہم حکام کو کوئی حملہ یا رابطے میں خلل پیش آئے تو اقتدار کی منتقلی بغیر کسی خلل کے ہو سکے۔ فیصلہ سازی کی ذمہ داری ایک مرکزی گروپ کو سونپی گئی ہے جو حکومتی امور کو جاری رکھنے کا پابند ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد ایران کی حکومت اور فوجی کمانڈ میں استحکام برقرار رکھنا اور ممکنہ داخلی و خارجی خطرات سے نمٹنا ہے۔
ایران کی سیاسی صورتحال اور خطے میں اس کے کردار کو دیکھتے ہوئے، یہ حکمت عملی خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جن میں علاقائی تنازعات اور عالمی پابندیاں شامل ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ملک نے اپنے دفاعی اور سیاسی نظام کو مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ملک کی سالمیت اور حکمرانی برقرار رہے۔
مستقبل میں اگرچہ خطے میں سیاسی کشیدگی بڑھ سکتی ہے، تاہم ایران کی جانب سے ایسے حفاظتی اقدامات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ وہ کسی بھی ممکنہ بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس دوران بین الاقوامی برادری کی نظر بھی ایران کی اندرونی سیاسی صورتحال اور اس کے علاقائی تعلقات پر مرکوز رہے گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance