روس نے جنوبی کوریا کو یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے سے خبردار کیا

زبان کا انتخاب

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اعلان کیا ہے کہ اگر جنوبی کوریا یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے کے لیے ‘یوکرین ترجیحی ضروریات کی فہرست’ کے میکانزم میں شامل ہوتا ہے تو روس اس کا سخت جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا نے پہلے بھی یہ واضح کیا تھا کہ وہ یوکرین کو ہتھیار اور گولہ بارود منتقل کرنے میں حصہ نہیں لے گا، اور روس اس موقف کی قدر کرتا ہے کیونکہ اسے روس-جنوبی کوریا تعلقات کی مزید بگاڑ روکنے کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ یہ رویہ دونوں ممالک کے مستقبل کے مذاکرات اور تعاون کے لیے بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
یوکرین میں جاری تنازع کے دوران مغربی ممالک نے روس کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں اور یوکرین کی فوجی مدد کے لیے مختلف ملکوں نے ہتھیار فراہم کیے ہیں۔ روس اس کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور ایسے اقدام کو جارحیت قرار دیتا ہے۔ جنوبی کوریا کی جانب سے یوکرین کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کا فیصلہ خطے میں توازن قائم رکھنے اور روس کے ساتھ تعلقات کو خراب ہونے سے بچانے کی کوشش سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ جنوبی کوریا نے اس حوالے سے سابقہ موقف واضح کیا ہے، لیکن عالمی سطح پر یوکرین کی حمایت میں بڑھتی ہوئی فزیکل اور مالی امداد کی بنا پر روس کی جانب سے ایسے خبردار کرنے والے بیانات جاری رہ سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں علاقائی سلامتی اور سفارتی تعلقات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ جنوبی کوریا کو بھی عالمی برادری میں متوازن پوزیشن اختیار کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔
یہ کشیدگی عالمی سیاسی منظرنامے میں ایک اور پیچیدگی کا اضافہ کرتی ہے، جہاں مختلف ملک اپنے قومی مفادات اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ روس اور جنوبی کوریا کے تعلقات کی نوعیت آئندہ بھی علاقائی اور عالمی سیاست پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش