بٹ کوائن کی قیمت میں اضافہ، امریکی لیبر ڈیٹا کی اصلاحات اور مہنگائی میں کمی کا اثر

زبان کا انتخاب

حال ہی میں امریکی لیبر ڈیٹا میں کی گئی اصلاحات کے باعث ملازمتوں کی تعداد میں 862,000 کی کمی دیکھی گئی، جس نے معاشی ترقی کے اندازوں میں تبدیلی اور پالیسی کے امکانات پر اثر ڈالا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مہنگائی کی شرح میں کمی نے بانڈ ییلڈز کو کم کیا، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن سمیت روایتی مالیاتی اثاثوں کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بٹ کوائن اب مائیکرو اکنامک چکروں کے ساتھ زیادہ گہرائی سے جُڑا ہوا ہے اور اس کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ اب بیشتر سود کی شرحوں اور حقیقی ییلڈز کی تبدیلیوں سے متاثر ہوتا ہے، نہ کہ صرف کرپٹو کرنسی کی مخصوص خبروں سے۔
بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے، مالی دنیا میں روایتی اثاثوں کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی قیمتوں کا تعلق اب عالمی معاشی حالات، خاص طور پر امریکی معیشت کی کارکردگی اور فیڈرل ریزرو کی مالی پالیسیوں سے مضبوطی سے جُڑا ہوا ہے۔ اس پیش رفت نے سرمایہ کاروں کی توجہ اس جانب مرکوز کر دی ہے کہ کرپٹو مارکیٹس بھی عالمی اقتصادی عوامل سے متاثر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے بٹ کوائن کو ایک قسم کی ڈیجیٹل گولڈ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مہنگائی اور مالیاتی بے یقینی کے دوران محفوظ پناہ گاہ کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
آگے چل کر، اگر امریکی معیشت میں مزید بہتری یا بدحالی آتی ہے تو اس کا براہ راست اثر بٹ کوائن کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کار اب بٹ کوائن کو صرف تکنیکی یا کرپٹو سے متعلق عوامل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ وسیع تر معاشی منظرنامے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ تاہم، چونکہ کرپٹو مارکیٹس اب بھی اپنی نوعیت میں ناپائیدار ہیں، اس لیے سرمایہ کاری میں احتیاط برتنا ضروری ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش