آسٹریلوی وزیر اعظم نے امیگریشن میں کمی کی تجویز مسترد کر دی، ایک نیشن پارٹی کی حمایت میں اضافہ

زبان کا انتخاب

آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیس نے امیگریشن میں کمی یا سرحدی کنٹرولز کو سخت کرنے کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ انتخابی سروے میں دائیں بازو کی جماعت، ون نیشن پارٹی، کی حمایت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وزیر اعظم کا موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کی حکومت موجودہ امیگریشن پالیسیوں کو برقرار رکھنے کے لئے پُرعزم ہے، باوجود اس کے کہ سیاسی حالات زیادہ قدامت پسند حکمت عملیوں کے حق میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
آسٹریلیا میں امیگریشن ایک اہم موضوع رہا ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں اس پر مختلف نظریات رکھتی ہیں۔ خاص طور پر ون نیشن پارٹی سخت امیگریشن قوانین کی حامی ہے اور اس کی مقبولیت میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ کچھ حلقے ملک میں امیگریشن میں کٹوتی چاہتے ہیں۔ تاہم البانیس حکومت نے اس رویے کے برعکس امیگریشن کو جاری رکھنے کی پوزیشن اختیار کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملک کی معیشت اور سماجی تنوع کو مستحکم رکھنے کے لیے امیگریشن کو ایک مؤثر عنصر سمجھتی ہے۔
آنے والے وقت میں سیاسی دباؤ کے باوجود، حکومت کی یہ پالیسی آسٹریلیا کی عالمی سطح پر مہاجرین اور مہاجر کارکنوں کو خوش آمدید کہنے کی روایت کو برقرار رکھے گی۔ تاہم، اگر ون نیشن پارٹی کی مقبولیت مزید بڑھتی ہے تو اس سے سیاسی محاذ پر امیگریشن کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا اثر آئندہ انتخابات پر بھی پڑ سکتا ہے۔

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے