ٹرمپ کی عالمی درآمدی مصنوعات پر 15 فیصد ٹیرف کے اعلان کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں کمی

زبان کا انتخاب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر درآمدی مصنوعات پر ٹیرف کی شرح بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے، جو پہلے 10 فیصد تھی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے پہلے کے تجارتی اقدامات کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے تجارتی پالیسیوں میں سختی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے ٹیرف نافذ کر دیے ہیں۔
یہ تجارتی پابندیاں عالمی معیشت میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتی ہیں کیونکہ درآمدی مصنوعات پر اضافی ٹیکس عالمی تجارت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ سیکٹرز میں یہ اقدامات مہنگائی میں اضافے اور سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا کر سکتے ہیں۔ امریکی اور عالمی مالیاتی مارکیٹس نے اس فیصلے کا فوری ردعمل دیا ہے، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن سمیت کئی کرپٹو کرنسیاں قیمت میں کمی کا شکار ہوئیں۔
بٹ کوائن، جو ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے اور اسے عالمی مالیاتی عدم استحکام کے دوران محفوظ پناہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس بار تجارتی کشیدگی اور عالمی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث کمزور ہوئی ہے۔ کرپٹو کرنسیز عموماً روایتی مالیاتی اور اقتصادی پالیسیوں کے ردعمل میں اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کار اس وقت محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
امریکی تجارتی پالیسی میں سختی عالمی معیشت اور مالیاتی مارکیٹس پر مزید اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹیرف کی شرح میں مزید اضافہ ہوتا ہے یا تجارتی کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا منفی اثر کرپٹو کرنسیز اور عالمی اسٹاک مارکیٹس پر پڑ سکتا ہے۔ عالمی تجارتی ماحول میں موجود غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا امکان برقرار ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی تجارتی پالیسیاں صرف روایتی معیشت پر ہی نہیں بلکہ ڈیجیٹل کرنسیز کی مارکیٹ پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں، اور سرمایہ کاروں کو ان تبدیلیوں پر نظر رکھنی ہوگی تاکہ وہ ممکنہ خطرات سے بچ سکیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے