گوگل ٹرینڈز کے تازہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ میں اس ماہ ’بٹ کوائن زیرو‘ کی تلاش نے ایک ریکارڈ بلند سطح حاصل کر لی ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس اصطلاح کی دلچسپی اگست کے مہینے کے بعد کم ہو گئی ہے۔ اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صارفین اور سرمایہ کاروں میں بٹ کوائن کے مستقبل کو لے کر خدشات بڑھ رہے ہیں اور وہ ممکنہ طور پر اس کی قیمت صفر تک گرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔
بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی سب سے مشہور اور پہچانی جانے والی کرپٹو کرنسی ہے، گذشتہ چند سالوں میں مالیاتی منڈیوں میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں کو کبھی خوشی دی ہے تو کبھی تشویش میں مبتلا بھی کیا ہے۔ کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال، عالمی اقتصادی دباؤ، اور حکومتی ضوابط کی سختی نے بٹ کوائن کی قیمت پر اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے باعث اس کی قیمت کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہتی ہیں۔
اگرچہ ’بٹ کوائن زیرو‘ کی تلاش میں اضافہ مندی کی طرف اشارہ کرتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے اشارے مخلوط ہیں اور بٹ کوائن کی قیمت کے بارے میں قطعی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔ کرپٹو مارکیٹ کی فطرت ہی غیر مستحکم ہے، جس میں اچانک تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو محتاط رہتے ہوئے تجزیہ کرنا چاہیے اور اپنی سرمایہ کاری میں تنوع پیدا کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔
مستقبل میں، بٹ کوائن کی قیمت پر عالمی مالیاتی حالات، ٹیکنالوجیکل اپ ڈیٹس، اور قانونی ماحول کے اثرات دیکھے جائیں گے۔ اگرچہ مندی کے آثار موجود ہیں، لیکن کرپٹو کرنسی کی اپنائی جانے والی جگہ اور استعمال میں اضافے کے باعث اس کے گراوٹ کے امکانات بھی محدود ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk