خلائی تحقیق اور مواصلات کی کمپنی SpaceX اگلے ماہ اپنے Starlink سیٹلائٹ نیٹ ورک کے تحت مدار میں 10,000 سے زائد سیٹلائٹس بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ معلومات ایک صارف کی جانب سے سامنے آنے والی رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا کہ SpaceX جلد ہی یہ سنگ میل عبور کر سکتا ہے۔ کمپنی کے بانی ایلون مسک نے بھی اس حوالے سے وضاحت کی ہے کہ ان کا نیا Starship راکٹ سالانہ 10,000 سے زائد سیٹلائٹس لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Starlink پروجیکٹ SpaceX کا ایک وسیع پیمانے پر جاری منصوبہ ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں تیز اور قابل بھروسہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنا ہے۔ اس نیٹ ورک میں ہر سیٹلائٹ زمین کے مدار میں رہ کر انٹرنیٹ سگنلز کی ترسیل میں مدد دیتا ہے۔ اب تک ہزاروں Starlink سیٹلائٹس مدار میں بھیجے جا چکے ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے دنیا کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت بہتر ہو رہی ہے۔
SpaceX کا Starship راکٹ خلائی مشنوں میں نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ راکٹ بڑی تعداد میں سیٹلائٹس کو بیک وقت مدار میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے خلائی مواصلات کے شعبے میں انقلاب آسکتا ہے۔ کمپنی کی یہ کوشش خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں مقابلہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ زمین پر انٹرنیٹ کی فراہمی کو بھی آسان اور سستا بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔
تاہم، سیٹلائٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث خلائی ملبے (space debris) کے خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جو مستقبل میں خلائی مشنوں اور زمین کے مدار میں موجود دیگر سیٹلائٹس کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے عالمی خلائی ایجنسیوں اور کمپنیوں کو اس مسئلے کے حل کے لیے بھی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔
SpaceX کی یہ پیش رفت خلائی مواصلات کی دنیا میں نمایاں تبدیلی لا سکتی ہے اور انٹرنیٹ کی رسائی کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔ آئندہ مہینوں میں اس منصوبے پر مزید تفصیلات اور اس کے اثرات سامنے آنے کی توقع ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance