AMC تھیئٹرز نے پری شو اشتہارات میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مختصر فلم کی نمائش روک دی

زبان کا انتخاب

امریکہ کی معروف سینما چین AMC تھیئٹرز نے ایک ایوارڈ یافتہ مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ مختصر فلم کو اپنے پری شو اشتہارات میں دکھانے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہالی وڈ میں مصنوعی ذہانت کی تخلیقی صلاحیتوں اور اس کے کردار پر شدید بحث جاری ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی جانے والی فلموں اور مواد کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود، کچھ روایتی میڈیا اور تفریحی ادارے اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ AMC کا یہ اقدام اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ وہ اپنی فلموں اور اشتہارات کی تخلیقی اور قانونی حیثیت کو یقینی بنانا چاہتا ہے، خاص طور پر جب AI کی تخلیقات کے حقوق اور اخلاقی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت نے فلم سازی، موسیقی، اور دیگر فنون میں نمایاں تبدیلیاں لائی ہیں، جس سے تخلیقی عمل میں تیزی اور نئی جہتیں سامنے آئی ہیں۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق تنازعات بھی جنم لے رہے ہیں، جن میں انسانی فنکاروں کے حقوق، تخلیقی ملکیت اور اخلاقیات شامل ہیں۔ ہالی وڈ کی بڑی اسٹوڈیوز اور فنکار AI کی مدد سے بننے والے مواد کے قانونی اور تخلیقی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل کے لیے مناسب پالیسیاں ترتیب دی جا سکیں۔
AMC کی جانب سے اس مختصر فلم کی نمائش روکنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ تفریحی صنعت مزید تحقیق اور وضاحت کے بغیر AI پر مکمل انحصار کرنے سے گریزاں ہے۔ آئندہ عرصے میں ممکن ہے کہ اس سلسلے میں مزید قوانین اور رہنما اصول وضع کیے جائیں تاکہ تخلیقی حقوق کی حفاظت ہو اور نئی ٹیکنالوجی کا فائدہ معاشرے کو پہنچے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے