واشنگٹن میں ہونے والی حالیہ ملاقاتوں میں وائٹ ہاؤس نے مستحکم کرنسیوں (stablecoins) کے ییلڈز یعنی منافع پر بات چیت کی، اور بینکوں کو اس حوالے سے تعاون کرنے کی ترغیب دی تاکہ مارکیٹ کی ساخت سے متعلق بل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ مستحکم کرنسیاں ایسی ڈیجیٹل کرنسیاں ہوتی ہیں جن کی قیمت عام طور پر کسی مستحکم اثاثہ جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے، اور یہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں استحکام لانے کا ایک ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔
مستحکم کرنسیاں مالیاتی ٹیکنالوجی کی دنیا میں تیزی سے اہمیت اختیار کر رہی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب روایتی بینکنگ نظام اور کرپٹو کرنسیوں کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بینکوں کو اس بل کی منظوری میں تعاون کی ترغیب دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت اب مستحکم کرنسیوں کو مالیاتی نظام کا ایک حصہ بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔
یہ بل مارکیٹ کے ڈھانچے کو بہتر بنانے اور کرپٹو کرنسیوں کی نگرانی میں شفافیت لانے کے مقصد سے تیار کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ بل کامیابی سے منظور ہو گیا تو اس سے کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد اور اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، جبکہ مالیاتی استحکام کو بھی فروغ ملے گا۔
تاہم، مستحکم کرنسیوں کے ییلڈز کی منظوری کے حوالے سے کچھ مالیاتی اداروں میں تحفظات بھی پائے جاتے ہیں، جنہیں حل کرنا ضروری ہے تاکہ یہ نظام موثر طریقے سے کام کر سکے۔ آئندہ چند ماہ میں اس بل کی پیش رفت اور اس کے اطلاق کے طریقہ کار پر نظر رکھی جائے گی تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ قانونی فریم ورک کس حد تک کرپٹو مارکیٹ میں مثبت تبدیلیاں لا پاتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk