مشہور امریکی سینیٹر اور طویل عرصے سے کرپٹو کرنسیوں کے ناقد، الیزا وارن نے امریکی خزانہ اور فیڈرل ریزرو پر زور دیا ہے کہ وہ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی گرتی ہوئی قیمتوں کے دوران سرمایہ کاروں یا کرپٹو کمپنیوں کو ٹیکس دہندگان کے پیسے سے مالی امداد فراہم کرنے سے باز رہیں۔ اس تنبیہ کا مقصد مارکیٹ کی موجودہ غیر یقینی صورتحال کے دوران سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ حالیہ مہینوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، جس کی وجہ سے کئی سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ بٹ کوائن سمیت دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی نے اس شعبے کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کرپٹو اثاثوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی نوعیت اور ان کے غیر یقینی نتائج کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
الیزا وارن کی درخواست اس تناظر میں سامنے آئی ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں مالی بحران کی صورت میں سرکاری ادارے مداخلت کر کے سرمایہ کاروں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ تاہم وارن کا موقف ہے کہ کرپٹو کرنسیوں کی نوعیت اور مارکیٹ کے خطرات کی وجہ سے یہ اقدام مناسب نہیں ہوگا کیونکہ اس سے عوامی خزانے پر غیر ضروری بوجھ پڑے گا۔
کرپٹو کرنسیوں کی مارکیٹ عالمی مالیاتی نظام میں ایک نیا اور ابھرتا ہوا شعبہ ہے جو روایتی مالیاتی اداروں سے مختلف طریقوں سے کام کرتا ہے۔ اس کے باوجود، اس کی غیر مستحکم نوعیت اور ریگولیٹری چیلنجز نے سرمایہ کاروں اور حکومتی حکام دونوں کے لیے خدشات پیدا کیے ہیں۔
اگرچہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ایک عام بات ہے، لیکن اس کے مستقبل اور حکومتی پالیسیوں پر اس کا اثر ابھی بھی غیر واضح ہے۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں کرپٹو کرنسیوں کے حوالے سے حکومتی رویہ سخت اور مالی امداد کے حوالے سے محتاط ہے، جو سرمایہ کاروں کو خود اپنی مالی حکمت عملی بہتر بنانے کی ضرورت کا عندیہ دیتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt