ہالی ووڈ اداکار اور کامیڈی اسٹار ٹی جے ملر نے حال ہی میں ایک ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ ایک مصنوعی ذہانت (AI) کا بوٹ انہیں اس ہفتے کے ETH ڈینور ایونٹ کے میزبان کی حیثیت سے “متبادل” کر چکا ہے۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب دنیا بھر میں AI ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث مختلف شعبوں میں ملازمتوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ٹی جے ملر کا تعلق مشہور ٹی وی سیریز “سلکان ویلی” سے ہے، جو ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپ کلچر پر مبنی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر طنزیہ طور پر کہا کہ AI کی آمد نے ان جیسے فنکاروں اور میزبانوں کے لیے کام کرنے کے مواقع کم کر دیے ہیں، تاہم ان کا رویہ زیادہ پریشان کن نہیں تھا۔
ETH ڈینور ایک معروف بلاک چین اور کرپٹو کرنسی کانفرنس ہے جہاں دنیا بھر سے سرمایہ کار، ڈویلپرز اور ماہرین نئے رجحانات اور ٹیکنالوجی پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی نے اس صنعت میں بھی بڑی تبدیلیاں لائی ہیں، جس سے کئی طرح کے کام خودکار ہو رہے ہیں اور نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
ملازمتوں کے حوالے سے AI کے اثرات پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ AI تکنیکی اور تخلیقی شعبوں میں انسانوں کی جگہ لے سکتا ہے، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ یہ نئی ملازمتوں اور صنعتوں کے دروازے بھی کھولے گا۔ خاص طور پر تفریحی صنعت میں، جہاں انسانی تخلیقیت کو اہمیت دی جاتی ہے، AI کے استعمال سے کام کی نوعیت بدل سکتی ہے۔
اس پیش رفت کے تناظر میں، مستقبل میں فنکاروں اور دیگر پیشہ ور افراد کو AI ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا پڑے گا تاکہ وہ اپنی مہارتوں کو بہتر بنا سکیں اور نئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ اس دوران، ایسے واقعات طنز و مزاح کے ذریعے اس تبدیلی کی نوعیت اور اثرات کو اجاگر کرتے رہیں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt