مینیاپولس کے فیڈرل ریزرو کے صدر نیل کشکاری نے شمالی ڈکوٹا کے فارگو میں ایک اقتصادی اجلاس کے دوران کرپٹو کرنسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کرپٹو کرنسیاں ایک دہائی سے موجود ہیں لیکن ان کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسیاں بالکل بے کار ہیں اور ان کا روزمرہ زندگی میں کوئی واضح استعمال نہیں۔ کشکاری نے کرپٹو کی اس کارکردگی کا موازنہ جدید مصنوعی ذہانت کے آلات سے کیا، جو صارفین اور کاروباروں کی روزمرہ ضروریات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔
کشکاری نے اسٹیبل کوائنز کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ یہ موجودہ ادائیگی کے نظاموں جیسے وینمو، پے پال یا زیل کے مقابلے میں کوئی خاص بہتری نہیں لاتے۔ انہوں نے سوال و جواب کے دوران کہا کہ وہ پانچ ڈالر کسی کو بھی وینمو، پے پال یا زیل کے ذریعے بھیج سکتے ہیں، تو پھر یہ جادوئی اسٹیبل کوائن کیا کر سکتا ہے؟ وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اگرچہ اسٹیبل کوائنز بین الاقوامی رقوم کی منتقلی کو تیز اور سستا بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن وصول کنندگان کو پھر بھی اپنی مقامی کرنسی میں تبدیل کرنا پڑتا ہے جس سے اضافی لاگت اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔
نیل کشکاری نے فیڈرل ریزرو کی خودمختاری کی بھی حمایت کی اور کہا کہ مرکزی بینک کی آزادی موثر معاشی پالیسی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی ہر ترقی یافتہ معیشت میں مرکزی بینک خودمختار ہوتا ہے تاکہ پالیسی فیصلے سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر صرف ڈیٹا اور تجزیے کی بنیاد پر کیے جا سکیں۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کشکاری نے کہا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے اور موجودہ شرح تقریباً دو سے تین فیصد کے درمیان ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح تھوڑی سی بڑھ کر چار فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں کئی بار سود کی شرح کم کرنے کے بعد فیڈرل ریزرو اب “تقریباً نیوٹرل” پالیسی پر ہے۔
گزشتہ سال بھی کشکاری نے کرپٹو کو 1990 کی دہائی کے “بینی بیبیز” فیشن کے بلبلے سے تشبیہ دی تھی اور کہا تھا کہ کرپٹو کرنسیوں کا کوئی حقیقی معاشی فائدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صارفین کی روزمرہ زندگی میں ڈیجیٹل اثاثوں کا کوئی نمایاں استعمال نہیں دیکھا گیا، اور زیادہ تر معاملات میں یہ بینکنگ قوانین کی خلاف ورزی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine