کرپٹو کرنسی کی دنیا میں اسٹیبل کوائنز کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب ایک حالیہ سروے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ یو گاؤ سروے جو کوائن بیس اور بی وی این کے نے مشترکہ طور پر کرایا ہے، اس میں انکشاف ہوا ہے کہ 77 فیصد اسٹیبل کوائن صارفین اس بات کے حق میں ہیں کہ وہ اپنے روایتی بینک کے ساتھ ایک ڈیجیٹل والیٹ کھولیں گے۔ اس کے علاوہ، 71 فیصد صارفین نے کہا کہ وہ اسٹیبل کوائن سے منسلک ڈیبٹ کارڈ کو اپنے روزمرہ کے اخراجات کے لیے استعمال کرنا پسند کریں گے۔
اسٹیبل کوائنز ایسی کرپٹو کرنسیاں ہیں جو روایتی کرنسی کی قیمت کے برابر مستحکم رہتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں سرمایہ کاری اور لین دین کے لیے محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ ان کرنسیوں کا استعمال بڑھنے سے بینکنگ سیکٹر میں بھی نئی سہولیات متعارف کروانے کی ضرورت پیدا ہو گئی ہے تاکہ صارفین کے لئے کرپٹو اور روایتی مالیاتی نظام کے درمیان آسانی پیدا کی جا سکے۔
بینک کی دنیا میں یہ نیا رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل میں روایتی بینکنگ ادارے اپنی خدمات کو ڈیجیٹل اور کرپٹو کرنسیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر توجہ دیں گے تاکہ صارفین کے بدلتے ہوئے مالیاتی رویوں کا جواب دے سکیں۔ اس کے علاوہ، اسٹیبل کوائنز کے ذریعہ خرچ کرنے کے لئے ڈیبٹ کارڈز کی مقبولیت کے باعث مالیاتی لین دین میں تیزی اور سہولت متوقع ہے۔
تاہم، اس نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ سیکورٹی اور ریگولیٹری چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں جن کا حل تلاش کرنا ضروری ہوگا تاکہ صارفین کے ڈیٹا اور فنڈز کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ، بینکوں کو صارفین کی ضروریات کے مطابق جدید اور محفوظ خدمات فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ کرپٹو کرنسی کے بڑھتے ہوئے رجحان میں اپنی جگہ مستحکم رکھ سکیں۔
مجموعی طور پر، اس سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں بینکنگ کا منظرنامہ نمایاں طور پر تبدیل ہوگا اور کرپٹو کرنسی خصوصاً اسٹیبل کوائنز کے انضمام سے صارفین کو آسان اور جدید مالیاتی خدمات میسر آئیں گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk