روس کی ممکنہ ڈالر تجارت امریکہ کے ساتھ سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے

زبان کا انتخاب

روس امریکہ کے ساتھ ڈالر کی بنیاد پر تجارت بحال کرنے پر غور کر رہا ہے، جو برکس ممالک کی موجودہ حکمت عملی کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ برکس ممالک کا مقصد ڈالر پر انحصار کم کرنا اور سونے کے ذخائر میں اضافہ کر کے مالی خودمختاری کو فروغ دینا ہے۔ نیشنل سیکیورٹیز اینڈ سٹریٹیجک سسٹمز اے آئی (NS3.AI) کے مطابق، برکس ممالک نے مجموعی طور پر 6,000 ٹن سے زائد سونا ذخیرہ کر لیا ہے، جس کی وجہ سے سونے کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً سات ہزار ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہیں۔
اگر روس اور امریکہ کے درمیان ڈالر کی بنیاد پر تجارت کا معاہدہ طے پا گیا تو اس سے ڈالر کی قدر میں اضافہ ممکن ہے، جو مرکزی بینکوں کی سونا خریدنے کی رفتار کو سست کر سکتا ہے اور بالآخر سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ صورتحال عالمی مالیاتی منڈیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم موڑ ہو سکتی ہے کیونکہ سونا روایتی طور پر مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے دوران محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔
برکس ممالک میں شامل روس، چین، بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ نے گزشتہ برسوں میں سونے کے ذخائر بڑھانے پر توجہ دی ہے تاکہ عالمی مالیاتی نظام میں امریکی ڈالر کی بالادستی کو کم کیا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی تجارت میں متبادل مالیاتی ذرائع کو فروغ دینا اور اقتصادی خطرات سے بچاؤ کرنا ہے۔
اگرچہ یہ ممکنہ معاہدہ روس اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کی علامت ہو سکتا ہے، لیکن اس کے مالیاتی منڈیوں پر اثرات پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے لیے تیار رہنا چاہیے، جبکہ عالمی معیشت میں بھی اس تبدیلی کے طویل مدتی نتائج کا جائزہ لینے کی ضرورت ہوگی۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش