بھارت کے سرکاری ملکیتی بینکوں نے ملک کی اسٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے انخلا کے دور میں بھی اپنی مضبوطی برقرار رکھی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی خبروں کے مطابق، یہ بینک اپنی قابلِ قدر کارکردگی اور ترقی کے امکانات کی بدولت سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ جہاں مجموعی طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی دیکھی جا رہی ہے، وہاں سرکاری بینکوں نے گھریلو طلب کی مضبوطی اور حکومت کے بھرپور تعاون کی بدولت استحکام برقرار رکھا ہے۔
ماہرین مالیات کا کہنا ہے کہ ان بینکوں کی اثاثہ جات کی کوالٹی میں بہتری اور منافع میں اضافہ ان کی مقبولیت کی وجوہات میں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، بھارتی حکومت کی جانب سے بینکنگ سیکٹر کو مستحکم بنانے کے لیے شروع کی گئی مختلف اسکیموں اور اصلاحات نے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا ہے۔ یہ رجحان بھارت کے دیگر حصص بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے انخلا کے مقابلے میں ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جو عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔
سرکاری بینکوں کی یہ مضبوطی بھارت کے مالیاتی شعبے کے لیے ایک امید افزا علامت ہے اور اس سے ملک کی معیشت میں استحکام اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ جیسے جیسے عالمی معاشی حالات میں تبدیلی آتی رہے گی، توقع ہے کہ یہ بینک بھارت کی اقتصادی ترقی اور مالی استحکام میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance