بینکنگ ٹریڈ گروپس مارکیٹ اسٹرکچر بل کی راہ میں رکاوٹ، برائن آرمسٹرانگ کا بیان

زبان کا انتخاب

کوائن بیس کے سی ای او برائن آرمسٹرانگ نے کہا ہے کہ اپ ڈیٹ کی گئی مارکیٹ اسٹرکچر قانون سازی میں بینکوں کو دیگر فوائد فراہم کیے جا سکتے ہیں تاکہ وہ مستحکم کوائن (Stablecoin) کے انعامات کو قبول کرنے کے لیے رضامند ہو سکیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بینکنگ ٹریڈ گروپس اس بل کی منظوری میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے مارکیٹ اسٹرکچر میں اصلاحات کی راہ میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
مستحکم کوائنز ڈیجیٹل کرپٹو کرنسیز کی ایک قسم ہیں جن کی قیمت عموماً کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر کے برابر ہوتی ہے، اور یہ مالیاتی لین دین میں استحکام فراہم کرتی ہیں۔ کوائن بیس، جو دنیا کی بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینجز میں سے ایک ہے، اس قسم کی کرپٹو کرنسیز کے استعمال اور انعامات کی ترغیب کے لیے حکومت کی جانب سے قوانین میں نرمی چاہتا ہے تاکہ صارفین کو بہتر مالی خدمات فراہم کی جا سکیں۔
مارکیٹ اسٹرکچر بل کا مقصد مالیاتی مارکیٹوں کو شفاف اور مؤثر بنانا ہے، لیکن اس میں شامل مختلف اسٹیک ہولڈرز کی دلچسپیاں اور تحفظات اس بل کی منظوری میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ بینکنگ سیکٹر کی تنظیمیں خاص طور پر اس بات پر تحفظات رکھتی ہیں کہ مستحکم کوائنز کے انعامات سے مالیاتی نظام میں نئی پیچیدگیاں اور خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو اس سے کرپٹو کرنسی انڈسٹری میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں، خاص طور پر صارفین کو مستحکم کوائنز کے استعمال میں آسانی اور نئی مالی سہولیات میسر آ سکتی ہیں۔ تاہم، اگر بینکنگ ٹریڈ گروپس اپنی مزاحمت جاری رکھتے ہیں تو اس سے کرپٹو مارکیٹ کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں اور جدید مالیاتی ماڈلز کی نفاذ میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر، یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کرپٹو کرنسیز اور روایتی مالیاتی اداروں کے مابین توازن قائم کرنے کے لیے مزید گفت و شنید اور مفاہمت کی ضرورت ہے تاکہ مالیاتی نظام میں نئی جدت کو بلا رکاوٹ اپنایا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے