جنوبی کوریا کی ہنوہا نے ’سیڈ لیس‘ کرپٹو والٹس میں 13 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی

زبان کا انتخاب

جنوبی کوریا کی مالیاتی کمپنی ہنوہا نے امریکی بلاک چین کمپنی میں 13 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ ’سیڈ لیس‘ کرپٹو والیٹ ٹیکنالوجی کو تیز کیا جا سکے اور حقیقی دنیا کی اثاثہ جات کی ٹوکنائزیشن کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ سرمایہ کاری بلاک چین کے استعمال کو وسیع کرنے اور کرپٹو کرنسی کے استعمال کو آسان بنانے کے لیے کی گئی ہے، خاص طور پر ان کاروباری اداروں کے لیے جو ڈیجیٹل اثاثوں کو محفوظ اور مؤثر طریقے سے منظم کرنا چاہتے ہیں۔
سیڈ لیس کرپٹو والٹس ایک جدید قسم کی ڈیجیٹل والیٹ ہیں جن میں روایتی سیڈ فریز یا بیج کی ضرورت نہیں ہوتی، جو کہ ہیکنگ کے خطرات کو کم کرتی ہے اور صارفین کو آسان رسائی مہیا کرتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے صارفین اپنی کرپٹو کرنسیز کو زیادہ محفوظ انداز میں ذخیرہ کر سکتے ہیں اور اثاثوں کی منتقلی میں سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔ ہنوہا جیسی بڑی مالیاتی کمپنیوں کی جانب سے اس میں سرمایہ کاری بلاک چین کے میدان میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو اس ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر اپنانے میں مدد دے گی۔
حقیقی دنیا کی اثاثہ جات کی ٹوکنائزیشن کا مطلب ہے کہ روایتی مالیاتی اثاثوں جیسے جائیداد، اسٹاکس یا دیگر قیمتی چیزوں کو ڈیجیٹل ٹوکنز میں تبدیل کیا جائے جو بلاک چین پر محفوظ ہوں۔ اس عمل سے اثاثوں کی خرید و فروخت مزید شفاف، تیز اور کم لاگت میں ممکن ہوگی۔ ہنوہا کی سرمایہ کاری کا مقصد اسی ٹیکنالوجی کی ترقی کو بڑھانا ہے تاکہ بزنس اور صارفین دونوں کے لیے جدید اور محفوظ مالیاتی حل فراہم کیے جا سکیں۔
یہ سرمایہ کاری اس وقت ہو رہی ہے جب کرپٹو کرنسیز اور بلاک چین کی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور مختلف مالیاتی ادارے اس میدان میں قدم رکھ رہے ہیں۔ ہنوہا کی یہ پیش قدمی جنوبی کوریا کی بلاک چین اور کرپٹو کرنسی کی صنعت کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
آئندہ، اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں سیڈ لیس والیٹس کی مقبولیت میں اضافہ متوقع ہے اور حقیقی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کے ذریعے مالیاتی لین دین مزید شفاف اور محفوظ بنانے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے