شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ایک نئی قسم کے راکٹ لانچرز کا اعلان کیا ہے جو ایک ‘حکمت عملی مشن’ کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک اپنی نایاب پارٹی کانگریس کی تیاری کر رہا ہے، جس میں آئندہ پانچ سال کے لیے اہم پالیسی ایجنڈے کا تعین کیا جائے گا۔ اس کانگریس کا مقصد شمالی کوریا کی مستقبل کی حکمت عملی اور ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالنا ہے۔
یہ پیش رفت شمالی کوریا کی فوجی پیش رفتوں پر عالمی نگاہوں کے دوران ہوئی ہے، جو اس کی عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ شمالی کوریا نے ماضی میں بھی متعدد بار میزائل اور راکٹ ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی کی ہے، جس نے بین الاقوامی برادری میں تشویش پیدا کی ہے۔ یہ نیا راکٹ لانچر اس ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر شمالی کوریا کی اس قسم کی فوجی پیش رفتوں کو عموماً تشویش کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ وہ خطے میں تناؤ کو بڑھا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ اقدام ممکنہ طور پر بین الاقوامی پابندیوں اور مذاکرات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب کہ شمالی کوریا اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو جدید بنانے میں لگا ہوا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ پارٹی کانگریس میں شمالی کوریا اپنی عسکری اور دیگر پالیسیوں کو کس طرح بیان کرتا ہے اور یہ دنیا کے لیے کس قسم کے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کی نظر شمالی کوریا کی ہر نئی فوجی پیش رفت پر مرکوز رہے گی، اور ممکنہ مذاکرات یا ردعمل کی راہیں تلاش کی جائیں گی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance