گولڈمین سیکس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیوڈ سولومون نے حال ہی میں ٹریژری سیکرٹری بیسینٹ کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جنہوں نے کرپٹو کرنسی کمپنیوں بالخصوص کوائن بیس جیسے اداروں کی جانب سے دی گئی اس رائے کی سختی سے مخالفت کی کہ “کوئی قانون سازی نہ ہونا ایک خراب قانون سے بہتر ہے”۔ ٹریژری سیکرٹری بیسینٹ نے واضح کیا کہ کرپٹو کرنسیز کے حوالے سے واضح اور مضبوط قانون سازی وقت کی ضرورت ہے تاکہ اس صنعت کو منظم کیا جا سکے اور سرمایہ کاروں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ڈیوڈ سولومون نے خود اعتراف کیا کہ ان کے پاس بٹ کوائن کی بہت کم مقدار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کرپٹو کرنسی میں محتاط رویہ رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قواعد و ضوابط کی وضاحت سے مارکیٹ میں شفافیت اور استحکام آئے گا۔ گولڈمین سیکس جیسی بڑی سرمایہ کاری بینک کے سی ای او کی یہ حمایت کرپٹو کرنسی کی قانون سازی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اس وقت عالمی سطح پر تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی مختلف ممالک میں اس گمبھیر قانونی خلا اور خطرات بھی موجود ہیں۔ امریکہ سمیت کئی ممالک میں قانون ساز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح کرپٹو کرنسی کی صنعت کو مناسب طریقے سے ریگولیٹ کیا جائے تاکہ فراڈ، منی لانڈرنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔
اگرچہ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں کسی بھی قسم کی سخت قانون سازی سے کچھ کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ایک مضبوط قانونی فریم ورک طویل مدت میں مارکیٹ کی پائیداری اور صارفین کے اعتماد کے لیے ضروری ہے۔ گولڈمین سیکس کے سی ای او کی یہ حمایت اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ بڑے مالیاتی ادارے کرپٹو کرنسی کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کے بجائے اس کے مستقبل کی راہ میں قانون سازی کو اہم سمجھتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt