اتھیریم کے 50 فیصد اسٹیکنگ کے دعوے پر سپلائی ڈیٹا کی غلط تشریح پر تنقید

زبان کا انتخاب

کرپٹو کرنسی اتھیریم کی اسٹیکنگ کے حوالے سے ایک حالیہ دعویٰ کہ اتھیریم کی کل سپلائی کا 50 فیصد حصہ اسٹیک کیا گیا ہے، مالی ماہرین اور تحقیق کاروں کی جانب سے تنقید کا سبب بنا ہے۔ کوائن شیئرز کے محقق لوک نولن اور Ethplorer.io کے الیگزینڈر واٹ نے اس دعوے کو یا تو غلط یا کم از کم گمراہ کن قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق حقیقت میں اسٹیک کیا گیا اتھیریم سپلائی کا تقریباً 30 فیصد ہے، جو کہ دعوے سے خاصا کم ہے۔
اتھیریم، بٹ کوائن کے بعد سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے جو اپنی اسمارٹ کنٹریکٹس اور ڈی سینٹرلائزڈ ایپلیکیشنز کے لیے مشہور ہے۔ اس کرنسی کا نیٹ ورک حال ہی میں پروف آف سٹیک (Proof of Stake) کنسنسس میکانزم کی طرف منتقلی کر رہا ہے، جس کا مقصد توانائی کی کھپت میں کمی اور نیٹ ورک کی سیکورٹی میں اضافہ ہے۔ اس عمل میں صارفین اپنی کرپٹو کرنسی کو نیٹ ورک میں لاک کرتے ہیں تاکہ لین دین کی تصدیق میں حصہ لے سکیں، جسے اسٹیکنگ کہا جاتا ہے۔
50 فیصد اسٹیکنگ کے دعوے نے مارکیٹ میں اتھیریم کی مضبوطی اور نیٹ ورک کی اعتمادیت کی تصویر کشی کی تھی، تاہم اب ماہرین کی جانب سے اس معلومات کی تصحیح نے سرمایہ کاروں میں شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ اسٹیکنگ کی اصل مقدار میں فرق ہونے کی وجہ سے مارکیٹ کی توقعات اور نیٹ ورک کے مستقبل کے امکانات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اگرچہ اسٹیکنگ کا تناسب کم ہونے سے نیٹ ورک کی سیکورٹی پر براہ راست اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اتھیریم کے صارفین اور سرمایہ کاروں کو درست معلومات کی ضرورت ہے تاکہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔ مستقبل میں سپلائی اور اسٹیکنگ کے اعدادوشمار میں شفافیت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں تاکہ مارکیٹ میں اعتماد قائم رہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے