بٹ کوائن کی قیمت پچھلے پانچ ہفتوں سے مسلسل کمی کا شکار ہے اور حالیہ سطح سے نیچے جانے کی صورت میں اس میں مزید گراوٹ کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ امریکہ کی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی حالیہ میٹنگ کے منٹس میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کا ذکر آیا ہے جس کی وجہ سے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی دیکھنے میں آئی ہے۔
بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے، گزشتہ کچھ عرصے سے غیر مستحکم قیمتوں کا سامنا کر رہا ہے۔ مالیاتی مارکیٹ میں شرح سود کے بڑھنے کے خدشات عام طور پر سرمایہ کاری کو متاثر کرتے ہیں کیونکہ یہ قرض کی لاگت بڑھا دیتے ہیں اور سرمایہ کاروں کو زیادہ محتاط بنا دیتے ہیں۔ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ اضافے کی خبروں کے باعث بڑے سرمایہ کار خطرات کم کرنے کے لیے اپنی پوزیشنز کم کر رہے ہیں، جس کا اثر کرپٹو کرنسیز اور سٹاک مارکیٹس دونوں پر پڑ رہا ہے۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی اس صورتحال کی وجہ سے اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جہاں سرمایہ کار مستقبل کی معاشی پالیسیوں اور عالمی معاشی حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ شرح سود میں اضافہ عام طور پر معیشت میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا جاتا ہے مگر اس کے اثرات سرمایہ کاری کے رویوں پر فوری طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔
اگر بٹ کوائن کی قیمت اس اہم سطح سے نیچے آ گئی تو کرپٹو مارکیٹ میں مزید دباؤ پیدا ہو سکتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، کرپٹو کرنسیز کی فطرت کے مطابق یہ مارکیٹ بہت جلد اپنی صورتحال بدل سکتی ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کو محتاط اور اچھی تحقیق کے ساتھ فیصلے کرنا ضروری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk