برطانیہ میں کرپٹو قوانین کی سست رفتاری عالمی مرکز بننے کی خواہشات میں رکاوٹ

زبان کا انتخاب

برطانیہ میں ڈیجیٹل اثاثوں کی ترقی کے لیے قوانین میں تاخیر سے ملک کی عالمی مالیاتی مرکز بننے کی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ اینڈریو میک کینزی، جو کہ پاؤنڈ سے منسلک ایک مستحکم کرنسی (stablecoin) بنانے والی کمپنی کے سربراہ ہیں، نے اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق، برطانیہ کی کرپٹو کرنسیوں کی ریگولیٹری فریم ورک میں سست روی اس انڈسٹری کی ترقی اور بین الاقوامی مقابلہ بازی میں کمی کا باعث بن رہی ہے۔
کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی دنیا بھر میں مالیاتی نظام کو تبدیل کر رہی ہے۔ خاص طور پر مستحکم کرنسیاں، جو روایتی کرنسیوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں، مالیاتی شمولیت اور تیزی سے لین دین کے ذرائع فراہم کر رہی ہیں۔ برطانیہ نے مالیاتی خدمات میں عالمی معیار قائم کرنے کے لیے پہلے بھی کوششیں کی ہیں، مگر کرپٹو انڈسٹری کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دنیا میں قوانین کی سست روی اسے پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔
میک کینزی نے کہا ہے کہ اگر برطانیہ نے اپنی ریگولیٹری پالیسیوں کو ہموار اور تیز نہیں کیا تو یہ نہ صرف ملکی کمپنیاں بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کار بھی دوسرے ممالک کی طرف مائل ہو سکتے ہیں جہاں کرپٹو قوانین زیادہ سازگار ہیں۔ اس سے برطانیہ کی معیشت اور مالیاتی شعبے کو نقصان پہنچنے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات کے پیش نظر، ریگولیٹری حکام کو چاہیے کہ وہ جدید تقاضوں کے مطابق قوانین تیار کریں تاکہ برطانیہ نہ صرف اس شعبے میں جدت کا مرکز بنے بلکہ عالمی مالیاتی نظام میں اپنی جگہ مضبوط کرے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے