جرمنی اور فرانس نے بی آر آئی سی ایس ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا تاکہ عالمی تقسیم سے بچا جا سکے

زبان کا انتخاب

جرمنی نے اپنے سابقہ نقطہ نظر کو غلط قرار دیتے ہوئے بی آر آئی سی ایس ممالک سے فاصلہ رکھنے کی حکمت عملی میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ جوہان ویڈی فول نے بی آر آئی سی ایس ممالک کے ساتھ مشترکہ جمہوری اقدار اور باہمی مفادات پر توجہ دینے کی اہمیت پر زور دیا، خاص طور پر بھارت کے ساتھ تعلقات کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ دوسری جانب فرانس نے بھی اسی طرز عمل کی حمایت کی ہے اور بی آر آئی سی ایس کے ساتھ تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی تقسیم کو روکا جا سکے۔
بی آر آئی سی ایس ممالک میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں جو عالمی معیشت میں تیزی سے ابھرتے ہوئے کھلاڑی ہیں اور عالمی طاقت کے توازن کو متاثر کر رہے ہیں۔ پچھلے کئی سالوں میں، مغربی ممالک اور بی آر آئی سی ایس کے درمیان تعلقات بعض اوقات کشیدگی کا شکار رہے، جس کی وجہ سے عالمی تجارتی اور سیاسی محاذ پر مختلف چیلنجز سامنے آئے۔ جرمنی اور فرانس کی اس نئی حکمت عملی کا مقصد ان ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کر کے عالمی منڈی میں مستحکم تعاون کو فروغ دینا اور بین الاقوامی سطح پر یکجہتی کو بڑھانا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر یورپی ممالک بی آر آئی سی ایس کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ عالمی معیشت کے لیے مثبت ہوگا، خصوصاً تجارتی تعاون، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں۔ تاہم، اس میں چیلنجز بھی موجود ہیں کیونکہ مختلف ممالک کی جغرافیائی سیاسی ترجیحات اور داخلی پالیسیاں بعض اوقات متصادم ہو سکتی ہیں۔ اس لیے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مستقل مذاکرات اور اعتماد سازی کی ضرورت ہوگی۔
یہ قدم عالمی سیاسی و اقتصادی منظر نامے میں ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں اب زیادہ کثیرالجہتی اور تعاون پر مبنی تعلقات کو ترجیح دے رہی ہیں تاکہ عالمی تقسیم کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش