امریکہ میں قانون سازوں کی جانب سے ڈیٹا سینٹرز اور کرپٹو کرنسی مائننگ کے اداروں پر توانائی کے استعمال کی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس دوران کرپٹو انڈسٹری کے نمائندے اور تجزیہ کار پیراڈائم نے اس خدشے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مائننگ کے ذریعے توانائی کی فراہمی میں استحکام لایا جا سکتا ہے۔
کرپٹو کرنسی مائننگ کا عمل کمپیوٹرز کی مدد سے پیچیدہ ریاضیاتی مسائل حل کرنے پر مشتمل ہوتا ہے، جس سے بلاک چین نیٹ ورک کی سیکیورٹی اور لین دین کی تصدیق ممکن ہوتی ہے۔ اس عمل کے لیے بڑی مقدار میں توانائی درکار ہوتی ہے، جس کی وجہ سے توانائی کے ماحولیاتی اثرات پر تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکہ میں توانائی کی طلب میں اتار چڑھاؤ اور گرڈ کی استحکام کے حوالے سے یہ بحث جاری ہے کہ کرپٹو مائننگ اس مسئلے کو کیسے متاثر کر سکتی ہے۔
پیراڈائم کے مطابق، کرپٹو مائننگ توانائی کے اضافی ذخائر کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب توانائی کی پیداوار میں بڑھوتری ہو اور اس کی طلب کم ہو۔ اس طرح مائننگ فارم توانائی کے ذخائر کو بروئے کار لا کر گرڈ پر بوجھ کم کر سکتے ہیں اور توانائی کی فراہمی کی غیر یقینی صورتحال کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، مائننگ آپریشنز کو توانائی کی فراہمی کے مطابق آسانی سے بڑھایا یا کم کیا جا سکتا ہے، جو کہ توانائی کی بچت کا باعث بنتا ہے۔
کرپٹو کرنسی کی صنعت نے گزشتہ برسوں میں توانائی کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں قابل تجدید توانائی کا استعمال شامل ہے۔ تاہم، قانون سازوں کی جانب سے سخت ضوابط اور پابندیاں عائد کرنے کے امکانات کے پیش نظر صنعت کو اپنی پالیسیوں اور آپریشنز پر غور و فکر جاری رکھنا ہوگا۔
مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ امریکہ اور دیگر ممالک کی حکومتیں کرپٹو مائننگ کے حوالے سے کس طرح کے قوانین بناتی ہیں اور ان قوانین کا توانائی کے شعبے اور کرپٹو انڈسٹری دونوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk