روس میں روزانہ کرپٹو کرنسی کا حجم 650 ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا، وزارت خزانہ کا اعلان

زبان کا انتخاب

روس میں کرپٹو کرنسی کے لین دین کا روزانہ حجم 650 ملین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جس کا اعلان وزارت خزانہ نے کیا ہے۔ اس کے ساتھ حکومت اور مرکزی بینک کے حکام کرپٹو کرنسی کی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے قانون سازی پر زور دے رہے ہیں۔ ان کا مقصد ہے کہ یہ قوانین بہار کے اجلاس کے دوران منظور ہو جائیں تاکہ کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کو باقاعدہ انداز میں کنٹرول کیا جا سکے۔
کرپٹو کرنسی ایک ڈیجیٹل یا ورچوئل کرنسی ہے جس کا استعمال دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ روس میں بھی اس کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، خاص طور پر ایسے افراد اور کاروبار جو روایتی مالیاتی نظام سے باہر لین دین کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، کرپٹو کرنسی کی غیر یقینی نوعیت اور دھوکہ دہی کے امکانات کی وجہ سے کئی ممالک اپنی حدود میں اسے منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
روس کی وزارت خزانہ اور مرکزی بینک کی جانب سے قانون سازی کا مقصد کرپٹو کرنسی کے استعمال کو شفاف بنانا، مالی جرائم کی روک تھام کرنا اور صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، اس اقدام سے کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھنے اور معیشت کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
اگرچہ کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت اور ضوابط کا تعین ابھی زیر غور ہے، مگر اس سے روسی مالیاتی نظام میں ایک واضح اور مستحکم فریم ورک قائم ہونے کی امید ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب قوانین بنائے گئے تو یہ روس میں کرپٹو کرنسی کے استعمال کو وسیع پیمانے پر بڑھا سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی مالیاتی خطرات اور غیر قانونی سرگرمیوں کا سدباب بھی ممکن ہو سکے گا۔
روس میں کرپٹو کرنسی کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ اور حکومتی کوششیں دنیا بھر میں اس شعبے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں، جہاں مختلف ممالک اپنی اقتصادی پالیسیاں اور مالیاتی قوانین اس نئی ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے