بٹ کوائن کی قیمت ہفتے کو 70,000 ڈالر کی سطح سے اوپر پہنچ گئی ہے، جو اس ماہ کے اوائل میں شدید گراوٹ کے بعد ایک مضبوط بحالی کی علامت ہے۔ امریکی مہنگائی کی شرح میں توقع سے کم اضافہ آنے کے بعد مارکیٹوں میں رسک لینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا، جس سے کرپٹو کرنسیاں بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ اس بحالی سے بٹ کوائن کی عالمی مارکیٹ کیپٹلائزیشن دوبارہ 1.4 ٹریلین ڈالر سے اوپر چلی گئی ہے۔
بٹ کوائن اس وقت تقریباً 70,215 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا ہے، جو گزشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 2 فیصد کا اضافہ ہے جبکہ روزانہ کی حجم 43 بلین ڈالر کے قریب ہے۔ یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صارفین کی قیمتوں کے اشاریہ میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی 2.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو ماہرین کی توقع سے تھوڑی کم تھی۔ اس کے نتیجے میں فیڈرل ریزرو کے ممکنہ سود کی شرح میں کمی کے امکانات بڑھے، جو عام طور پر کرپٹو کرنسیز جیسے زیادہ رسک والے اثاثوں کے لیے مثبت ہوتا ہے۔
کریپٹو کرنسی سے جڑی کمپنیوں کی حصص میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ کوائن بیس کے حصص میں 18 فیصد اور اسٹریٹجی انکارپوریٹڈ کے حصص میں 10 فیصد اضافہ ہوا، حالانکہ کوائن بیس کو حال ہی میں کمزور ٹریڈنگ ریونیو کی وجہ سے خسارے کا سامنا رہا ہے۔ اسٹریٹجی نے حال ہی میں 1,100 سے زائد بٹ کوائن خریدے ہیں، لیکن مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے اسے مالی نقصان بھی ہوا ہے۔
بٹ کوائن کی قیمتوں میں یہ اضافہ اس کے اکتوبر کے مہینے میں 120,000 ڈالر سے زائد کی بلند ترین سطح کے بعد آنے والی کئی ماہ کی گراوٹ کے بعد آیا ہے۔ فروری کے شروع میں قیمت 70,000 ڈالر کی نفسیاتی حد سے نیچے گر گئی تھی، جو مارکیٹ کے لیے ایک اہم سنگ میل تھا۔ تحقیقاتی ادارے K33 نے اس گراوٹ کو “مقامی نچلی سطح” قرار دیا ہے، لیکن سرمایہ کاروں میں خوف و عدم اعتماد کا عنصر ابھی بھی موجود ہے جیسا کہ کرپٹو فیئر اینڈ گریڈ انڈیکس میں دکھائی دیتا ہے۔
بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیز کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی مالیاتی اور معاشی صورتحال کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور آئندہ بھی یہ مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کا شکار رہ سکتی ہے، خاص طور پر جب اقتصادی پالیسیاں اور سود کی شرحوں میں تبدیلیاں آتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine