قیمتی دھاتیں | گولڈ کی قیمتیں شرح سود میں کمی کے امکان کے باعث 5,000 ڈالر کی سطح سے اوپر پہنچ گئیں

زبان کا انتخاب

امریکہ میں بنیادی صارف قیمت اشاریہ میں کمی کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں گولڈ کی قیمت 5,000 ڈالر کے نشان سے اوپر جا پہنچی ہے۔ مارکیٹ میں شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات نے سرمایہ کاروں کو سونے کی جانب راغب کیا ہے۔ گولڈ کی قیمت ایک اونس کے حساب سے 5,042 ڈالر پر بند ہوئی جو کہ دن کے دوران 2.33 فیصد اور ہفتہ وار بنیاد پر 1.53 فیصد کا اضافہ ہے۔ تاہم، سونا اب بھی اپنے تاریخی ریکارڈ 5,608 ڈالر کی قیمت سے تقریباً 10.1 فیصد نیچے ہے۔
چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور یہ 77.41 ڈالر فی اونس پر بند ہوئی، جو جمعہ کو 2.08 فیصد کی بہتری کی نمائندگی کرتی ہے۔ قیمتی دھاتوں کی یہ مضبوطی عام طور پر اس وقت دیکھنے میں آتی ہے جب سرمایہ کار غیر یقینی معاشی حالات میں محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا تعلق عالمی مالیاتی پالیسیوں، خصوصاً شرح سود کے فیصلوں سے ہوتا ہے۔ جب مرکزی بینک شرح سود میں کمی کا اشارہ دیتے ہیں تو اس سے سرمایہ کار سونے کی طرف مائل ہوتے ہیں کیونکہ اس سے مالیاتی لاگت کم ہوتی اور سرمایہ کی قیمت کمزور ہوتی ہے، جس سے گولڈ کی قیمتوں پر مثبت اثر پڑتا ہے۔
اس صورتحال میں، اگر امریکہ میں شرح سود میں واقعی کمی کی جاتی ہے تو قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، تاہم عالمی معاشی حالات اور دیگر مالی عوامل بھی اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کے بدلتے ہوئے حالات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے سرمایہ کاری کے فیصلے بہتر انداز میں کر سکیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے