وال اسٹریٹ کے بینکاروں کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں ایک دستاویز پیش کی گئی جس میں مستحکم کوائنز (stablecoins) پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس کے جواب میں کریپٹو کرنسی کی دنیا نے اپنے اصول اور موقف پیش کیے ہیں۔ بینکاروں کا کہنا تھا کہ مستحکم کوائنز پر دیے جانے والے منافع کو روکنا ضروری ہے تاکہ مالیاتی خطرات کو کم کیا جا سکے، لیکن کریپٹو گروپ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مستحکم کوائنز پر کچھ حد تک انعامات کا ہونا ضروری ہے تاکہ صارفین کی دلچسپی اور مارکیٹ کی ترقی برقرار رہ سکے۔
مستحکم کوائنز ایسے ڈیجیٹل اثاثے ہوتے ہیں جن کی قدر عموماً کسی مستحکم کرنسی جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے، تاکہ قیمت میں اتار چڑھاؤ کم سے کم ہو۔ یہ کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ پناہ گزین کے طور پر کام کرتے ہیں، خاص طور پر جب دیگر کرپٹو کرنسیاں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہوں۔ تاہم، مستحکم کوائنز کے ذریعے حاصل ہونے والے منافع یا ییلڈ پر پابندی لگانے کی تجویز سے کریپٹو سیکٹر میں تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ یہ انعامات صارفین کو مستحکم کوائنز استعمال کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور مارکیٹ میں لیکویڈیٹی فراہم کرتے ہیں۔
کریپٹو کمیونٹی کا کہنا ہے کہ اگر مستحکم کوائنز پر مکمل پابندی عائد کی گئی تو یہ مارکیٹ کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور صارفین کے لیے متبادل راستے تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ، مستحکم کوائنز کے ذریعے حاصل ہونے والے کچھ انعامات مالیاتی نظام میں شفافیت اور مسابقت کو فروغ دیتے ہیں۔ اس تناظر میں، مارکیٹ کے ماہرین اور قانون ساز ادارے اس مسئلے پر مزید غور و فکر کر رہے ہیں تاکہ ایک متوازن پالیسی ترتیب دی جا سکے جو دونوں طرف کے مفادات کو مدنظر رکھے۔
مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت اور مالیاتی ادارے کس حد تک کریپٹو کرنسی کی دنیا کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے قوانین بنا پاتے ہیں، کیونکہ مستحکم کوائنز کا کردار بڑھتا جا رہا ہے اور یہ کرپٹو مارکیٹ کا ایک اہم جزو بن چکے ہیں۔ اس سلسلے میں، ممکنہ ضوابط میں توازن قائم کرنا ضروری ہوگا تاکہ سرمایہ کاروں کے حقوق محفوظ رہیں اور مالیاتی استحکام بھی برقرار رہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk