امریکی خزانے کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ اگر کلیرٹی ایکٹ کی منظوری ہو جائے تو اس سے کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کم ہوگا۔ کلیرٹی ایکٹ ایک تجویز کردہ قانون ہے جس کا مقصد کرپٹو کرنسیوں کے حوالے سے قانونی وضاحتیں فراہم کرنا اور ان کی ریگولیشن کو بہتر بنانا ہے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ، خاص طور پر بٹ کوائن، حالیہ برسوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔ ایسے میں قانون سازی کے ذریعے واضح قواعد و ضوابط کا نفاذ مارکیٹ کو متحمل خطرات سے بچانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کلیرٹی ایکٹ کے تحت کرپٹو کرنسیوں کی قانونی حیثیت واضح ہو گی، جس سے ڈیجیٹل اثاثوں کی تجارت اور سرمایہ کاری میں شفافیت بڑھے گی۔
یہ قانون کرپٹو کرنسیز کی نگرانی، ان کی قانونی پہچان اور صارفین کے تحفظ کے حوالے سے بھی اہم اقدامات پیش کرے گا۔ امریکہ کی جانب سے کرپٹو کرنسیوں کی ریگولیشن میں دلچسپی اس بات کا عندیہ ہے کہ مستقبل میں مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل کرپٹو اثاثوں کا کردار مزید نمایاں ہوگا۔ اس سے نہ صرف مارکیٹ میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی مالیاتی نظام میں امریکی پالیسیوں کا اثر بھی بڑھے گا۔
تاہم، قانون سازی کی منظوری کے عمل میں مختلف سیاسی اور معاشی عوامل اثر انداز ہو سکتے ہیں، اور ممکن ہے کہ اس عمل میں تاخیر یا رد و بدل ہو۔ اس کے باوجود، کلیرٹی ایکٹ کا نفاذ کرپٹو کرنسی مارکیٹ کے لئے ایک مثبت قدم تصور کیا جا رہا ہے جو طویل مدتی استحکام اور ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt