پی جی آئی گلوبل کے سی ای او کو بٹ کوائن اور فاریکس ٹریڈنگ کی آڑ میں چلائی جانے والی ایک بڑے پیمانے کی پانزی سکیم کے الزام میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس فراڈ میں تقریباً 200 ملین ڈالر مالیت کے سرمایہ کاروں کے فنڈز کا غلط استعمال کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق، پی جی آئی گلوبل نے سرمایہ کاروں کو بٹ کوائن اور فاریکس ٹریڈنگ میں منافع بخش سرمایہ کاری کا جھانسہ دیا تھا۔ تاہم، وعدوں کے برعکس کمپنی نے نئے سرمایہ کاروں کے پیسوں کو پرانے سرمایہ کاروں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا اور ذاتی منافع کے لیے کروڑوں ڈالر نکال لیے۔ یہ ایک کلاسیکی پانزی سکیم کی صورت تھی، جہاں حقیقی سرمایہ کاری کے بجائے پیسے کا چکر چلایا جاتا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو منافع دیا جا سکے اور مزید سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔
پانزی سکیمز عام طور پر مالیاتی دھوکہ دہی کی سب سے بڑی اقسام میں شمار ہوتی ہیں، جن میں ابتدائی سرمایہ کاروں کو نیا سرمایہ کاروں کے پیسے سے منافع دیا جاتا ہے۔ اس طرح کے فراڈ میں اکثر سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے جب اسکیم کا گھڑنا ٹوٹتا ہے۔
کرپٹو کرنسی اور فاریکس مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث اس طرح کے فراڈز میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سرمایہ کاروں کو ہمیشہ محتاط رہنے اور معتبر ذرائع سے ہی سرمایہ کاری کے فیصلے کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ پی جی آئی گلوبل کیس ایک انتباہ ہے کہ بظاہر منافع بخش مواقع کے پیچھے بڑے مالیاتی خطرات بھی ہو سکتے ہیں۔
اب جبکہ سی ای او کو سزا سنادی گئی ہے، تو اس سے ممکنہ طور پر دیگر ایسے فراڈز کی روک تھام میں مدد ملے گی اور مالیاتی اداروں کی نگرانی سخت ہوگی۔ تاہم، سرمایہ کاروں کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس قسم کے مالیاتی دھوکہ دہی سے محفوظ رہ سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk