برازیل کے قانون سازوں نے ایک نیا بل دوبارہ پیش کیا ہے جس کے تحت ملک میں “اسٹریٹیجک سوورین بٹ کوائن ریزرو” (RESBit) قائم کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد پانچ سال کی مدت میں ایک ملین بٹ کوائنز کو تدریجی طور پر حاصل کرنا ہے تاکہ برازیل کی مالی حکمت عملی میں بٹ کوائن کو شامل کیا جائے اور قومی ذخائر کو متنوع بنایا جا سکے۔
یہ بل وفاقی ڈپٹی لوئز گیسٹاؤ کی جانب سے پیش کیا گیا ہے اور اس میں مختلف قواعد وضوابط شامل ہیں جن کے تحت یہ ریزرو کام کرے گا۔ بل کے مطابق، برازیل کی عدالتی حکام کے قبضے میں آئے ہوئے بٹ کوائنز کو فروخت کرنے پر پابندی ہوگی تاکہ یہ اثاثے عوامی کنٹرول میں رہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت کو وفاقی ٹیکس کی ادائیگی بھی بٹ کوائن میں کرنے کی اجازت دی جائے گی اور سرکاری کمپنیوں کو بٹ کوائن مائننگ اور ذخیرہ کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔
شفافیت کو بل میں اہمیت دی گئی ہے، جس کے تحت RESBit کے بٹ کوائن ذخائر کو انٹرنیٹ پر عوامی طور پر ظاہر کیا جائے گا تاکہ عام لوگ ان کی نگرانی اور جانچ کر سکیں۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل اثاثوں کی حفاظت کے لیے کولڈ والٹس، ملٹی سائن والیٹس اور دیگر عالمی معیار کے سیکیورٹی طریقے اپنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ بل میں یہ بھی اجازت دی گئی ہے کہ مخصوص اور عارضی حالات میں بٹ کوائن کے اثاثوں پر مبنی اسپوٹ ای ٹی ایفز کو ریزرو میں رکھا جا سکتا ہے۔
اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے، تو برازیل ان چند ممالک میں شامل ہو جائے گا جو قومی سطح پر بٹ کوائن کے ذخائر رکھتے ہیں، اور ممکن ہے کہ امریکہ اور چین جیسے بڑے حاملین کو پیچھے چھوڑ دے۔ اس سے پہلے، السلوادور نے بٹ کوائن کو ایک قومی مالیاتی حکمت عملی کے طور پر اپنایا ہے اور سات ہزار سے زائد بٹ کوائنز کا ذخیرہ کر رکھا ہے۔ دیگر ممالک جیسے امریکہ، چیک ریپبلک، سوئٹزرلینڈ، ہانگ کانگ، یوکرین، اور پاکستان بھی بٹ کوائن کو قومی ذخائر میں شامل کرنے کے مختلف منصوبے زیر غور رکھے ہوئے ہیں۔
برازیل کی یہ پیش رفت عالمی سطح پر بٹ کوائن کی مالیاتی اہمیت کو مزید تقویت دے سکتی ہے اور ملک کی مالی خودمختاری اور ذخائر کی تنوع میں اضافہ کر سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine