آئرن آئر کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز گر گئیں ہیں، جس کی بنیادی وجہ چین میں ذخائر میں اضافہ اور برازیل کی کان کنی کمپنی ویلے کی توقع سے زیادہ پیداوار ہے۔ یہ صورتحال مارکیٹ میں سپلائی کے اضافے کے خدشات کو جنم دے رہی ہے، جس کی وجہ سے آئرن آئر کی قیمتوں پر منفی دباؤ پڑ رہا ہے۔
چین دنیا کا سب سے بڑا آئرن آئر صارف ملک ہے، جہاں اس دھات کا استعمال اسٹیل کی صنعت میں بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ چین کے بڑھتے ہوئے اسٹاک پائلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں طلب کم ہو رہی ہے یا سپلائی بڑھ رہی ہے، جو قیمتوں کی گراوٹ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دوسری طرف، ویلے کمپنی، جو دنیا کی سب سے بڑی آئرن آئر پیدا کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہے، نے حالیہ مہینوں میں اپنی پیداوار میں اضافہ کیا ہے۔ اس اضافے نے عالمی مارکیٹ میں آئرن آئر کی فراہمی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماہرین مارکیٹ کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ یہ صورتحال عالمی سطح پر آئرن آئر کی سپلائی اور طلب کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگر سپلائی میں اضافہ جاری رہا اور طلب میں استحکام یا کمی رہی، تو قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے، جس سے اسٹیل انڈسٹری اور کان کنی کمپنیوں پر مالی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر چین کی طلب میں اچانک اضافہ ہو جائے تو قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے۔
آئرن آئر کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی معیشت اور صنعتی ترقی کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ یہ دھات بنیادی صنعتی خام مال مانا جاتا ہے۔ اس لیے سرمایہ کار اور صنعتی حلقے اس مارکیٹ کی حرکات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مستقبل کی حکمت عملی بنائی جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance