امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیل اور ایلومینیم کی مخصوص مصنوعات پر عائد محصولات کو کم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں مہنگائی کی بڑھتی ہوئی سطح کے باعث عوام کی خریداری کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر کی حمایت کمزور ہو رہی ہے۔ گزشتہ سال گرمیوں میں، ٹرمپ انتظامیہ نے اسٹیل اور ایلومینیم پر محصولات عائد کیے تھے جن کی شرح 50 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ ان محصولات کو دھات کی دیگر مصنوعات جیسے واشنگ مشین اور اوونز تک بھی بڑھایا گیا تھا۔
تاہم، حالیہ رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ ان محصولات کے تحت آنے والی مصنوعات کی فہرست کا جائزہ لے رہی ہے اور کچھ اشیاء کو اس فہرست سے خارج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ، محصولات کی فہرست میں مزید اضافے کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا منصوبہ ہے کہ مخصوص اشیاء کے حوالے سے قومی سلامتی کے حوالے سے مزید ہدفی تحقیقات کی جائیں گی۔ امریکی محکمہ تجارت اور امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے اہلکاروں کا خیال ہے کہ یہ محصولات صارفین کو نقصان پہنچا رہی ہیں کیونکہ ان سے برتنوں، خوراک اور مشروبات کے ڈبوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اگر یہ محصولات میں نرمی کی جاتی ہے تو اس سے برطانیہ، میکسیکو، کینیڈا اور یورپی یونین کے رکن ممالک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یہ ممالک امریکی اسٹیل اور ایلومینیم مصنوعات کی درآمدات میں اہم کردار رکھتے ہیں۔ عالمی سطح پر اسٹیل اور ایلومینیم کی تجارت پر امریکی محصولات کا اثر نمایاں رہا ہے اور اس میں تبدیلی سے عالمی منڈیوں میں بھی ردعمل متوقع ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے اس تجویز پر عمل درآمد سے نہ صرف صارفین کی مالی مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ صنعتی شعبے میں بھی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ تاہم، اس اقدام کے سیاسی اور اقتصادی اثرات انتخابات کے قریب خاصے اہم ہوں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance