یورپی ممالک اپنے جوہری ہتھیاروں کی خود مختار صلاحیت پر غور کر رہے ہیں

زبان کا انتخاب

یورپی ممالک سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پہلی بار اپنے دفاع کے لیے خود کا جوہری ہتھیار رکھنے پر سنجیدہ غور و خوض کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرنا ہے۔ یہ بات حال ہی میں ایک عالمی خبر رساں ادارے نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی ہے جہاں انہوں نے بتایا کہ عالمی سیاسی حالات میں تبدیلی اور سیکیورٹی خدشات نے یورپی ممالک کو اپنی دفاعی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔
یورپی ممالک کی یہ پیش رفت ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے جس کا مقصد دفاع میں خود مختاری حاصل کرنا ہے تاکہ عالمی سیاسی کشیدگی کے دوران اپنی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ موجودہ عالمی سیاسی صورتحال میں بے یقینی اور بڑھتے ہوئے خطرات نے یورپ کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی دفاعی پالیسیوں کو مضبوط بنائے اور اپنی خود مختار جوہری صلاحیت پر غور کرے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ مذاکرات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور مختلف یورپی ممالک اپنے اپنے ملکوں کی صورتحال اور عالمی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اقدام کی عملی ممکنات اور خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر یورپی ممالک نے خود مختار جوہری ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیا تو اس سے عالمی تعلقات اور طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت عالمی سلامتی کے نظام میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے اور اس سے عالمی ایٹمی پالیسیوں میں بھی تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ یورپی ملکوں کی یہ کوشش ان کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے جس کا مقصد ایک خود مختار اور محفوظ یورپ کی تشکیل ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے