کرپٹو کرنسی کی دنیا میں بڑی سرمایہ کاری کرنے والے وہیلز یعنی بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے بِٹ کوائن کی خریداری میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ رجحان خاص طور پر اس وقت اہم ہے جب ای ٹی ایف (Exchange Traded Funds) سے سرمایہ کی روانی کم ہو رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کی یہ حرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ میں خوف یا گھبراہٹ کی بجائے دوبارہ خریداری اور سرمایہ کی منتقلی ہو رہی ہے۔
وہیلز کی جانب سے بِٹ کوائن کی مسلسل خریداری کو ماہرین ایک مثبت نشانی کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو قلیل مدتی مندی کے بعد مارکیٹ کے استحکام کا عندیہ ہے۔ اس طرح کی سرمایہ کاری اکثر اس وقت سامنے آتی ہے جب مارکیٹ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہوتا ہے اور بڑے سرمایہ کار موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بِٹ کوائن دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے جس کا مارکیٹ پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ ای ٹی ایف کے ذریعے سرمایہ کار بِٹ کوائن میں براہ راست سرمایہ کاری کے بجائے اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے سرمایہ لگاتے ہیں، لیکن جب ای ٹی ایف سے سرمایہ نکلنے لگتا ہے تو یہ عام طور پر مارکیٹ میں مندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، اگر وہیلز اس سرمایہ کو خرید کر مارکیٹ میں واپس لے آتے ہیں تو یہ مندی کے بجائے قیمتوں کی ری اسائنمنٹ اور استحکام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت کا رجحان ایک سست مگر مستحکم دوبارہ جمع کرنے کا مرحلہ ہے، نہ کہ مکمل رجعت یا مندی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کار بِٹ کوائن کے مستقبل کے حوالے سے پرامید ہیں اور وہ اس کی قیمتوں میں مزید بہتری کی توقع رکھتے ہیں۔
اگرچہ کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے، لیکن بڑی سرمایہ کاری کرنے والے افراد کی جانب سے اعتماد کا اظہار مارکیٹ کے لیے مثبت خبر ہے۔ یہ رجحان آنے والے دنوں میں بِٹ کوائن کی قیمتوں پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے اور مارکیٹ کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنا سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance