صرف 5 فیصد کمپنیاں مصنوعی ذہانت سے منافع میں بہتری دیکھ رہی ہیں، میک کنزی چائنا کے چیئرمین کا کہنا ہے

زبان کا انتخاب

میک کنزی کے گریٹر چائنا کے چیئرمین نے بتایا ہے کہ تقریباً ہر کمپنی مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال میں تجربات کر رہی ہے، لیکن بہت کم کمپنیاں اپنی تنظیمی ڈھانچے میں اتنی گہرائی سے تبدیلی لا رہی ہیں کہ جس سے منافع میں حقیقی اضافہ ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ادارے AI کو صرف ایک تکنیکی اپ گریڈ کے طور پر دیکھ رہی ہیں، جبکہ اس کا مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے تنظیمی حکمت عملی اور کاروباری ماڈلز میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر کی کمپنیوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے، لاگت کم کرنے اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے مواقع دیے ہیں۔ تاہم، میک کنزی کی تحقیق اور دیگر عالمی رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ AI کے استعمال کا مکمل فائدہ اٹھانے میں کئی رکاوٹیں ہیں، جن میں سے سب سے اہم تنظیمی تبدیلیوں کی کمی ہے۔
چین میں بھی کمپنیز AI کی ترویج پر زور دے رہی ہیں، لیکن ابھی تک صرف چند ہی اداروں نے اپنی کاروباری حکمت عملی میں اتنی جدت لائی ہے کہ وہ منافع میں خاطر خواہ بہتری دیکھ سکیں۔ اس کے علاوہ، AI کے نفاذ میں مہارت کی کمی، سرمایہ کاری کا مسئلہ اور ڈیٹا کی حفاظت جیسے چیلنجز بھی موجود ہیں۔
میک کنزی کے چیئرمین کے مطابق، مستقبل میں اگر کمپنیاں AI کو اپنی تنظیمی ثقافت اور کام کے طریقوں میں مکمل طور پر ضم کر لیں تو وہ اس ٹیکنالوجی سے زیادہ فوائد حاصل کر سکیں گی۔ ورنہ AI کے استعمال کا اثر محدود رہے گا اور توقعات کے مطابق منافع میں اضافہ نہیں ہو گا۔
یہ صورتحال عالمی سطح پر بھی دیکھی جا رہی ہے جہاں AI کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود، صرف چند ادارے ہی اس سے مکمل معاشی فائدہ اٹھا پائے ہیں۔ لہٰذا، کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ AI کو صرف ایک ٹول کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے اپنی کاروباری حکمت عملی کے مرکز میں رکھیں تاکہ وہ اپنی کارکردگی اور منافع میں نمایاں بہتری لا سکیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش