ایشیا مغرب سے آگے بڑھ رہا ہے: علاقائی مراکز اسٹیبل کوائن قواعد میں قیادت کر رہے ہیں

زبان کا انتخاب

ہانگ کانگ میں ہونے والی کانفرنس “کنسینسس” میں ماہرین نے کہا ہے کہ ایشیا میں صارفین کی سہولت اور اسٹیبل کوائن کے ضوابط پر توجہ کی وجہ سے آن چین خوردہ استعمال میں تیزی آئی ہے۔ اس خطے کے متعدد مالیاتی مراکز نے اس حوالے سے واضح پالیسیز اپنائی ہیں جس سے ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ اسٹیبل کوائنز، جو عام طور پر کرپٹو مارکیٹ میں قیمت کی استحکام کے لیے استعمال ہوتے ہیں، ایشیا میں تیزی سے اپنائے جا رہے ہیں کیونکہ انہیں روایتی مالیاتی نظام کے مقابلے میں زیادہ لچکدار اور صارف دوست سمجھا جاتا ہے۔
اسٹیبل کوائنز کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ صارفین کو کرپٹو کرنسی کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے خطرے سے محفوظ رکھتے ہیں، جس سے آن لائن اور آف لائن تجارت میں ان کی قبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایشیا کے کئی ممالک نے اس حوالے سے ریگولیٹری فریم ورک تیار کیا ہے جو نہ صرف صارفین کی حفاظت کرتا ہے بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی اعتماد فراہم کرتا ہے۔ اس سے مقامی اور عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کی تجارت میں اضافہ متوقع ہے۔
مغربی ممالک میں اگرچہ کرپٹو کرنسی اور اسٹیبل کوائن کے استعمال میں پیش رفت ہو رہی ہے، لیکن ایشیا کی تیز رفتار ترقی کی وجہ سے یہ خطہ اس حوالے سے ایک نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ علاقائی مالیاتی مراکز جیسے سنگاپور، ہانگ کانگ اور جاپان نے اس میدان میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے، جہاں حکومتیں اور نجی سیکٹر مل کر اسٹیبل کوائن کے لیے مضبوط ضوابط وضع کر رہے ہیں۔
آگے چل کر، اگر یہ رجحان برقرار رہا تو ایشیا عالمی کرپٹو مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری چیلنجز اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال بھی ایک بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ان تبدیلیوں پر گہری نظر رکھیں اور اپنے آپ کو بدلتے ہوئے منظرنامے کے لیے تیار کریں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش