کریپٹو کرنسی اور بلاک چین کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے وینچر کیپیٹلسٹ ہانگ کانگ میں منعقدہ کانسنسس کانفرنس میں ایک طویل مدتی حکمت عملی اپنانے پر زور دے رہے ہیں۔ سرمایہ کاری کے ماحول میں سختی کے باعث، سرمایہ کار ایسے منصوبوں کو ترجیح دے رہے ہیں جو موجودہ مارکیٹ میں کامیابی کی ضمانت دیتے ہیں، جیسے کہ اسٹیبل کوائنز اور ٹوکنائزیشن۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت اور پیشن گوئی مارکیٹس میں بھی محتاط انداز میں سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔
اسٹیبل کوائنز ایسی ڈیجیٹل کرنسیاں ہیں جن کی قیمت کسی مستحکم اثاثے، عموماً امریکی ڈالر، سے منسلک ہوتی ہے، جس سے مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال میں قدر میں اتار چڑھاؤ کم ہوتا ہے۔ ٹوکنائزیشن کا مطلب ہے کہ روایتی اثاثوں جیسے جائیداد یا فن پارے کو ڈیجیٹل ٹوکنز میں تبدیل کیا جائے، جس سے سرمایہ کاری میں آسانی اور شفافیت آتی ہے۔ یہ رجحانات اس لیے اہم ہیں کیونکہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور ریگولیٹری پیچیدگیوں نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔
کانفرنس میں شریک وینچر کیپیٹلسٹ اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ بازار کی صورتحال میں جلد باز سرمایہ کاری کے بجائے طویل المدتی منصوبوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود، بلاک چین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر بننے والے منصوبے مستقبل میں مالیاتی نظام کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے وہ کمزور اور عارضی رجحانات میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مضبوط اور دیرپا ماڈلز کو ترجیح دے رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت اور پیشن گوئی مارکیٹیں بھی سرمایہ کاری کے لیے منتخب شعبے ہیں، جہاں ٹیکنالوجی اور ڈیٹا اینالیسز کی مدد سے بہتر فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، ان شعبوں میں سرمایہ کاری میں محتاط رویہ رکھا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
مجموعی طور پر، بلاک چین اور کریپٹو کرنسی کی دنیا میں سرمایہ کار اب نہ صرف مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو سمجھ رہے ہیں بلکہ مستقبل کی ترقی کے لیے پائیدار اور مستحکم منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہ حکمت عملی ان کے لیے طویل مدت میں منافع بخش ثابت ہونے کی امید رکھتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk