امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کے چیئرمین پال اٹکنز کو کانگریس کی ایک سماعت میں کرپٹو کرنسی کے قوانین پر عملدرآمد میں نرمی کے حوالے سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر جسٹن سن، جو کہ کرپٹو پروجیکٹ ٹرون کے بانی ہیں، اور ان کے ادارے کے خلاف قانونی کارروائی میں کمی پر بحث کی گئی۔ پال اٹکنز نے کہا کہ وہ قانون سازوں کو اس معاملے پر خفیہ بریفنگ دینے کے لیے تیار ہیں تاکہ کرپٹو سیکٹر کے ریگولیشن کے حوالے سے بہتر تفہیم حاصل کی جا سکے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور مختلف ممالک کے مالیاتی ادارے اس جدید مالیاتی شعبے کو منظم کرنے کے لیے قوانین مرتب کر رہے ہیں۔ ایس ای سی کی جانب سے بعض کرپٹو کمپنیوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں دھوکہ دہی اور قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات شامل ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں کچھ کیسز میں کارروائی میں نرمی دکھائی گئی ہے جس پر قانون سازوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
جسٹن سن اور ٹرون کی مثال اس بات کی عکاس ہے کہ کس طرح بعض بڑے کرپٹو پروجیکٹس پر قانونی کارروائیوں کی راہ میں رکاوٹیں آ رہی ہیں یا انہیں موخر کیا جا رہا ہے۔ اس سے کرپٹو سیکٹر میں شفافیت اور قانونی عمل کی اہمیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ پال اٹکنز نے کہا کہ ایس ای سی کا مقصد مارکیٹ کو محفوظ اور شفاف بنانا ہے اور وہ قانون سازوں کے ساتھ مل کر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
کرپٹو کرنسیز کی دنیا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور نئے مالیاتی ماڈلز کے پیش نظر، عالمی سطح پر ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت بڑھ گئی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں امریکی کانگریس کی سماعت ایک اہم قدم ہے جس سے متعلقہ حکام اور قانون ساز کرپٹو سیکٹر کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی پر غور کر سکیں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk