موجودہ معاشی نظام میں گھر کی ملکیت اب بہت سے نوجوانوں کے لیے خواب بن چکی ہے، خاص طور پر جنریشن زی کے افراد کے لیے۔ کرپٹو سرمایہ کاری فرم کوائن فنڈ کے ڈیوڈ پاک مین کے مطابق، بڑھتے ہوئے مکانوں کے کرایے اور قیمتوں نے نوجوانوں میں مالی نفسیاتی بے یقینی یا “نہ ہونے کا احساس” کو جنم دیا ہے۔ یہی نفسیاتی کیفیت کرپٹو کرنسی کے ڈیریویٹو مارکیٹ میں تاریخی اضافے کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے، جس کی مالیت ایک سو کھرب ڈالر تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ڈیریویٹو مارکیٹ وہ جگہ ہے جہاں سرمایہ کار کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پر مبنی معاہدے خریدتے اور بیچتے ہیں، جس سے وہ کم سرمایہ لگا کر زیادہ منافع کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ مارکیٹ روایتی کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ یہاں خطرات زیادہ ہوتے ہیں، لیکن اس کے بدلے ممکنہ منافع بھی زیادہ ہوتا ہے۔ موجودہ مالی بے یقینی اور روایتی سرمایہ کاری کے ذرائع کی عدم دستیابی نے نوجوان سرمایہ کاروں کو اس مارکیٹ کی طرف راغب کیا ہے۔
جنریشن زی کے افراد، جو تکنیکی مہارتوں میں ماہر اور آن لائن دنیا کے باشندے ہیں، نے کرپٹو ڈیریویٹو کو ایک ایسا راستہ سمجھا ہے جہاں وہ کم وقت میں زیادہ منافع کما سکتے ہیں، خاص طور پر جب انہیں روایتی مالی نظام میں مواقع محدود نظر آتے ہیں۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی سرمایہ کاری میں بلند خطرات شامل ہیں، اور یہ نوجوان اپنی مالی مستقبل کے لیے خطرات مول لے رہے ہیں جو غیر مستحکم مارکیٹ کے باعث نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ میں یہ اضافہ اس وقت ہو رہا ہے جب عالمی معیشت مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، جن میں مہنگائی، بے روزگاری اور رہائش کے بلند اخراجات شامل ہیں۔ ان عوامل نے نوجوانوں کو روایتی سرمایہ کاری کے بجائے زیادہ پرخطر مگر ممکنہ طور پر زیادہ منافع بخش راستے اپنانے پر مجبور کیا ہے۔ آئندہ مالی سالوں میں اس رجحان کی مزید تیزی سے ترقی متوقع ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مالیاتی عدم استحکام اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk