کرپٹو مارکیٹ کی نگرانی میں نرمی پر قانون سازوں کی شدید تنقید

زبان کا انتخاب

کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں تیزی سے گرتے ہوئے سرمایہ کی قدر کے دوران، امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کے چیئرمین کی جانب سے صنعت کی نگرانی میں نرمی پر قانون سازوں نے سخت اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کرپٹو مارکیٹ کے لیے اچھا نہیں اور اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
کرپٹو کرنسی ایک ڈیجیٹل یا ورچوئل کرنسی ہے جس کی حفاظت اور نگرانی کے لیے عالمی سطح پر مختلف حکومتی ادارے سخت قوانین نافذ کرتے ہیں۔ امریکہ میں ایس ای سی کرپٹو مارکیٹ کی نگرانی کے لیے مرکزی ادارہ ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ ہو اور فراڈ سے بچاؤ ممکن ہو۔ تاہم، حالیہ دنوں میں ایس ای سی نے کرپٹو انڈسٹری کی نگرانی میں کچھ نرمی کی ہے جسے کئی قانون سازوں نے غیر مناسب قرار دیا ہے۔
یہ نرمی ایسے وقت میں آئی ہے جب کرپٹو مارکیٹ میں مجموعی سرمایہ کی قدر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے تحفظات بڑھ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کرپٹو کرنسی سے متعلق معاملات پر بھی توجہ مرکوز ہے کیونکہ ان کے فیصلے اور سرگرمیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ کی غیر مستحکم نوعیت کی وجہ سے اس کی نگرانی انتہائی ضروری ہے تاکہ مالیاتی نظام میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ نگرانی میں نرمی سے مارکیٹ میں بے ضابطگیوں اور فراڈ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔
آئندہ دنوں میں قانونی اداروں اور حکومتی عہدیداروں کی طرف سے کرپٹو مارکیٹ کی نگرانی کے حوالے سے مزید اقدامات متوقع ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جا سکے اور مارکیٹ کو مستحکم بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں، ایس ای سی کی حکمت عملی میں تبدیلی کے اثرات کو بھی قریب سے دیکھا جائے گا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش