بٹ کوائن کی قیمت بدھ کو مزید گر گئی کیونکہ امریکہ میں جاری ہونے والی مضبوط روزگار رپورٹ نے سرمایہ کاروں کی فیڈرل ریزرو کے مارچ میں سود کی شرح میں کمی کی توقعات کو کمزور کر دیا۔ امریکی معیشت میں روزگار کے بہتر اعداد و شمار کے بعد مالیاتی پالیسی سازوں کی جانب سے شرح سود میں کمی کے امکانات محدود ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے، اکثر مالیاتی پالیسیوں اور عالمی اقتصادی حالات سے متاثر ہوتی ہے۔ فیڈرل ریزرو کی شرح سود کی پالیسی کا براہ راست اثر کرپٹو مارکیٹ پر پڑتا ہے کیونکہ سود کی شرحوں میں کمی سے سرمایہ کاروں کو رسک اثاثوں میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب ملتی ہے جبکہ شرح سود میں اضافہ یا کمی کے امکانات کم ہونے سے سرمایہ کاری میں احتیاط بڑھ جاتی ہے۔
امریکی روزگار کی رپورٹ میں غیر زراعتی شعبے میں ملازمتوں کی تعداد میں اضافہ اور کم بیروزگاری کی شرح نے ظاہر کیا کہ معیشت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں فوری کمی کے امکانات محدود ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال میں سرمایہ کاروں نے بٹ کوائن سے اپنی سرمایہ کاری کم کی، جس سے اس کی قیمت میں کمی واقع ہوئی۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی یہ صورتحال اس بات کا اشارہ ہے کہ مالیاتی پالیسی اور اقتصادی اعداد و شمار کی خبروں پر مارکیٹ کی حساسیت برقرار ہے۔ مستقبل میں اگر فیڈرل ریزرو سود کی شرحوں میں کمی کا فیصلہ کرتا ہے تو بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں بہتری آ سکتی ہے، ورنہ مارکیٹ میں مزید دباؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عالمی اقتصادی رجحانات اور مالیاتی پالیسیوں پر نظر رکھیں تاکہ اپنے مالی فیصلے بہتر انداز میں کر سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt