بلیک راک نے اپنے 2.2 بلین ڈالر مالیت کے ٹوکنائزڈ امریکی خزانہ فنڈ کے حصص کو ڈی سینٹرلائزڈ ایکسچینج یونی سوئپ پر ٹریڈ کے لیے دستیاب کروا دیا ہے۔ یہ اقدام مالیاتی ادارے کے لیے ڈی فائی (Decentralized Finance) کے میدان میں پہلا قدم ہے، جس سے روایتی سرمایہ کاری اور کرپٹو کرنسی کے درمیان پل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس اعلان کے بعد یونی سوئپ کے اپنے مقامی ٹوکن UNI کی قیمت میں تقریباً 25 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو اس مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ڈی فائی وہ مالیاتی نظام ہے جو بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتا ہے اور بینکوں یا بروکرز جیسے درمیانی لوگوں کے بغیر مالیاتی خدمات فراہم کرتا ہے۔ یونی سوئپ ایک معروف غیر مرکزی کرپٹو کرنسی ایکسچینج ہے جہاں صارفین اپنی کرپٹو اثاثوں کی براہ راست تجارت کر سکتے ہیں۔ بلیک راک کی جانب سے امریکی خزانہ کے فنڈ کو ٹوکنائز کرنا ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ یہ روایتی مالیاتی مصنوعات کو بلاک چین کی دنیا میں لانے کی کوشش ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو زیادہ شفافیت اور آسان رسائی ممکن ہو سکتی ہے۔
بلیک راک عالمی سطح پر سرمایہ کاری کی خدمات فراہم کرنے والا ایک بڑا ادارہ ہے، اور اس کا ڈی فائی میں داخلہ اس شعبے کی اہمیت اور نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ اس اقدام سے ممکنہ طور پر ڈی فائی مارکیٹ میں مزید روایتی مالیاتی ادارے شامل ہو سکتے ہیں، جو مارکیٹ کی وسعت اور استحکام کے لیے مددگار ثابت ہو گا۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بلیک راک کی یہ کوشش کرپٹو مارکیٹ پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے، اور آیا دیگر بڑے مالیاتی ادارے بھی اسی طرح کے ٹوکنائزڈ پراڈکٹس کو غیر مرکزی پلیٹ فارمز پر لانے کا رجحان اپنائیں گے یا نہیں۔ تاہم ڈی فائی کے ساتھ منسلک کچھ خطرات، جیسے سمارٹ کنٹریکٹ کی خامیاں اور ریگولیٹری عدم یقینی صورتحال، ابھی بھی موجود ہیں جنہیں سرمایہ کاروں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk