رابن ہڈ نے اپنی نئی بلاک چین “رابن ہڈ چین” کی جانچ کا آغاز کیا ہے، جو ایتھیریم کی بنیاد پر تیار کردہ آربٹریم پروٹوکول پر مبنی ہے۔ اس بلاک چین کا مقصد چوبیس گھنٹے ٹریڈنگ کی سہولت فراہم کرنا اور ٹوکنائزڈ اسٹاکس کو ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) میں شامل کرنا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے رابن ہڈ اپنی مالیاتی خدمات کو مزید جدید اور صارف دوست بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
رابن ہڈ ایک مشہور آن لائن بروکریج پلیٹ فارم ہے جو خاص طور پر نوجوان سرمایہ کاروں میں مقبول ہے۔ اس نے حالیہ برسوں میں کرپٹو کرنسیز کی تجارت کو بھی اپنے پلیٹ فارم پر شامل کیا ہے، جس سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے رابن ہڈ کی کوشش ہے کہ وہ ڈیفائی کے ذریعے مزید شفاف، تیز اور کم لاگت والی مالیاتی خدمات فراہم کرے۔
آربٹریم ایک اسکیلنگ سلوشن ہے جو ایتھیریم بلاک چین کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے بنایا گیا ہے، جس سے ٹرانزیکشن کی رفتار بڑھتی ہے اور فیس کم ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے رابن ہڈ چین صارفین کو بہتر اور کم قیمت ٹریڈنگ تجربہ فراہم کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
رابن ہڈ کی اس نئی بلاک چین کا آغاز کرپٹو مارکیٹ میں ایک اہم تبدیلی کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ روایتی مالیاتی نظام اور ڈیفائی کے مابین پل کا کام کرے گا۔ ٹوکنائزڈ اسٹاکس، جن کا مطلب ہے کہ حقیقی کمپنیوں کے حصص کو ڈیجیٹل ٹوکنز کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے، اگر اس بلاک چین پر کامیابی سے چلائے گئے تو یہ مالیاتی دنیا میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔
تاہم، اس منصوبے کے ساتھ تکنیکی چیلنجز اور ریگولیٹری مسائل بھی وابستہ ہیں، کیونکہ بلاک چین اور کرپٹو کرنسی کے قوانین مختلف ممالک میں مختلف ہیں۔ اس بات کا انحصار ہوگا کہ رابن ہڈ اس نئی ٹیکنالوجی کو کس حد تک کامیابی سے نافذ کر پاتا ہے اور اسے قانونی منظوری ملتی ہے یا نہیں۔
رابن ہڈ کا یہ قدم کرپٹو کرنسی اور بلاک چین کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت ہے جو مستقبل میں مالیاتی خدمات کو مزید جدید اور قابلِ رسائی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk