جاپانی ین کی مضبوطی، مداخلت کے خدشات کے درمیان اضافہ

زبان کا انتخاب

جاپانی ین نے ابتدائی تجارتی سیشن میں زیادہ تر جی 10 اور ایشیائی کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے، جو جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت کے خدشات کی وجہ سے ہوا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق، جاپان کے وزیر خزانہ کاتسونوبو کاتو اور اعلیٰ فاریکس حکام میں سے جونچی میمورا نے ین کی قیمت میں غیر معمولی کمی پر گہری نظر رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں فاریکس مداخلت کے امکانات کو تقویت ملی ہے۔
ڈی بی ایس بینک کے فاریکس اسٹریٹیجسٹ فلپ وی کا کہنا ہے کہ ان بیانات نے مارکیٹ میں ین کی قدر کم ہونے کے خدشات کو زندہ رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں ین کی قیمت میں دو دن متواتر تقریباً ایک فیصد کی کمی واقع ہوئی، جبکہ منگل کو بھی 0.9 فیصد کی کمی دیکھی گئی تھی۔ اس کمی کا سبب منافع کمانے کے لیے کی جانے والی فروخت بھی رہی ہے۔
جاپانی ین کی اس قسم کی حرکات عام طور پر ملکی معیشت کی مضبوطی یا کمزوری کی عکاسی کرتی ہیں۔ ین کی قیمت میں کمی جاپانی برآمدات کو فروغ دینے میں مدد دیتی ہے کیونکہ کمزور ین درآمدات کو مہنگا اور برآمدات کو سستا بنا دیتا ہے۔ تاہم، اگر ین کی قدر بہت زیادہ گر جائے تو یہ ملکی معیشت کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے حکومت یا مرکزی بینک مداخلت کر سکتے ہیں تاکہ ین کی قدر کو مستحکم کیا جا سکے۔
گزشتہ برسوں میں جاپانی ین میں کئی بار اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر عالمی مالیاتی بازاروں میں غیر یقینی صورتحال اور عالمی معیشت کی تبدیلیوں کے دوران۔ جاپانی حکام کی جانب سے جاری کردہ اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ کرنسی کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مناسب اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
مستقبل میں، اگر ین کی قیمت میں غیر معمولی کمی برقرار رہی تو جاپانی حکومت کی طرف سے فاریکس مارکیٹ میں مداخلت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جس کا اثر عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں اور تاجروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جاپان کی مالیاتی پالیسیوں اور عالمی اقتصادی صورتحال پر نظر رکھیں تاکہ کرنسی کی قیمتوں میں ممکنہ اتار چڑھاؤ سے آگاہ رہ سکیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش